انڈونیشی اور پاکستانی کا فرق

موضوع: سمجھو اور سمجھاو, فی البدیہ
کچھ دن سے میری عادت ہے کہ اخبار پڑھنے کی بجائے تصاویر دیکھ کر بند کر دیتا ہوں ، دل سخت بور ہو گیا اخبار سے ۔
آج اخبار کھولا اور پہلی تصویر کھولی ۔
امی پاس سے گزر رہی تھیں تصویر دیکھتے ہی خوشی خوشی آئیں اور خوشی سے کہا ، “انڈونیشین ہوتی ہیں ایسی ” اور نیچے کیپشن پڑھ کر کہنے لگیں ” ہاں انڈونیشین ہی ہیں ، میں نے کہا تھا نہ ”
میں دوسری تصویر پر گیا اور امی کو دکھا کر کہا ” اور ایسی ہوتی ہیں پاکستانی” امی نے ناگوار سی آواز میں کہا ، ” ہاں یہ ہے پاکستانی” ۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

انڈونیشی اور پاکستانی کا فرق پر اب تک 21 تبصرے

  • راشد کامران

    Monday، 1 August 2011 بوقت 4:38 am

    ایک تصوری بالی کے کسی ساحل کی لے لیں اور ایک تصویر پاکستان میں کسی مذہبی تقریب میں شریک خواتین کی تو معاملہ الٹ ہوجائے گا۔۔ یہ تو آپ کے اوپر ہے کہ مسجد میں نماز میں مصروف خواتین اور ایک الیٹ خاتون کی تصویر کا تقابل کریں کریں اور گوار اور ناگوار صورت حال طاری کریں۔

    • Bilal

      Monday، 1 August 2011 بوقت 5:26 pm

      Rashid Bali keee Tasveer keoon, why you don’t find any protest photo of Indonesian women? You will see what is difference
      Bali city is 99% Hindu Community and Indonesian 30% are Christian people also living . So if you find some beaches photo so you can’t blame that these are muslim. It can be christian community. we are so called 99% mulsim state and fucking non of following Islam

  • احمر

    Monday، 1 August 2011 بوقت 5:45 am

    متفق بہ راشد کامران

    احمر

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Monday، 1 August 2011 بوقت 5:46 am

    سچ ہے بھئی سچ ہے۔
    انڈونیشین ایسی ہی ہوتی ہیں۔

  • عمران اقبال

    Monday، 1 August 2011 بوقت 9:23 am

    میں راشد کامران سے متفق ہوں۔۔۔

  • پاکستانی

    Monday، 1 August 2011 بوقت 12:27 pm

    میں راشد کامران سے متفق ہوں۔

  • خرم ابن شبیر

    Monday، 1 August 2011 بوقت 1:10 pm

    میں بھی راشد کامران بھائی سے متفق ہو

  • Anonymous

    Monday، 1 August 2011 بوقت 2:49 pm

    جانے دیں معاف کردیں،ابھی بچہ ہے!
    🙂
    یہاں تو بڑے بڑے بزرگوں کا یہی حال ہے!!!

    Abdullah

  • عمران اقبال

    Monday، 1 August 2011 بوقت 6:10 pm

    میں عبداللہ سے بلکل متفق نہیں ہوں۔۔۔

  • Anonymous

    Monday، 1 August 2011 بوقت 2:40 am

    مجھ سےمتفق نہ ہونےکے لیئے تمھارا بہت بہت شکریہ!!!
    🙂

    Abdullah

  • نورمحمد ابن بشیر

    Monday، 1 August 2011 بوقت 4:40 am

    عبداللہ بھائی صاحب . . . تمہارا بھیجہ تھوڑا کھسکیلا ہے کیا ؟‌‌؟‌؟‌؟

    اللہ تعالی تم پر رحم کرے . آمین

  • جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    Monday، 1 August 2011 بوقت 4:54 am

    نوجوانی میں حج کرنے والوں میں غالبا انڈونیشین سب سے پہلے ہیں۔ عام مسلمان کی رشتے کی بات چلے تو اسکے حج کرنے یا نہ کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

    البتہ پاکستانی تصویر میں اور کوئی بات ثابت ہو یا نہ ہو۔ شاید ہی کہیں انہائی کرپٹ اور چو لوگوں کو اسقدر اور بے غیرتی کی اس حد تک نوازا جاتا ہو ۔ جیسا پاکستان میں کہ انکی اولادوں کو بھی وہ وی آئی پی رتبہ دیا جاتا ہے جو حقیقی وی آئی پیز کو بھی نہیں ملتا۔

    سخت کم ظرف قسم کے لوگ پاکستان کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔

    اس مذکورہ تصویر میں ایک مائی اور غالبا پچاسوں مردوں کو ہٹو بچو کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

    ترقی کی یہ کونسی قسم ہے؟ جس پہ پاکستانی قوم کے بادشاہ بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں۔؟

  • بنیاد پرست

    Monday، 1 August 2011 بوقت 10:25 am

    انکل نے انڈونیشن خواتین کی نماز کی تصویر کا موازنہ ایک پاکستانی سیاسی رنڈی شرمیلا فاروقی کی جلسہ میں لی گئی تصویر کےساتھ کیا ہے، یہ واقعی ناانصافی اور جانبداری کا مظاہرہ ہے۔ ویسے اگر اسکا پاکستانی خواتین کے دینی اجتماع کے ساتھ بھی موازنہ کر لیا جائے تو انڈونیشین خواتین پھر بھی اپنے نظم وضبط، ، وقار اور ترتیب کی وجہ سے پرامینینٹ نظر آئیں گیں، حجاج سے کئی دفعہ انکی تعریف سنی ہے۔ہمارے ہاں خواتین کی اجتماعی عبادات میں جو شور شرابا، دھکم پیل، چیخ وپکار ہوتی ہے اور جو حال انکی بے پردگی اور لباس وفیشن کا ہوتا ہےاسے دیکھ کر تو یہ لگتا ہے جیسے یہ عورتیں بازار یا ولیمہ پر آئیں ہوئیں ہیں۔ الا ماشااللہ
    ویسے عبداللہ تم نے بھی کبھی آنٹی کی کسی پوسٹ پر تنقید کی ہے، ہم تو اپنا ہو یا پرایااسکی اچھی بات کی تعریف بھی کرتے ہیں اگر کہیں غلطی کرے توتنقید برائے اصلاح بھی کرتے ہیں۔ تم عمران اقبال بھائی کے تعریفی کمنٹس آنٹی کے بلاگ پر بھی دیکھ سکتے ہو۔

  • محمد سعد

    Monday، 1 August 2011 بوقت 11:43 am

    سطح زمین پر کوئی بھی چند لاکھ مربع کلومیٹر کا علاقہ لے لیں تو آپ کو وہاں بے شمار اقسام کے لوگ ملیں گے۔ ان سب میں سے صرف ایک چھوٹی سی اقلیت کو اتنا دماغ پر سوار کر لینا حماقت ہے۔ جیسے وہ ایک بھائی صاحب ہیں جنہوں نے کچھ جرائم پیشہ پاکستانیوں کی ٹینشن کو اس حد تک سر پر سوار کیا ہوا ہے کہ انہیں لفظ "پاکستانی"، لفظ "جرائم پیشہ" ہی کا مترادف لگنے لگ گیا ہے۔
    دوسری تصویر کے متعلق اگر میری رائے لی جائے، تو جیسا جاوید صاحب نے کہا، اس میں اس عورت سے زیادہ وہ سارے لوگ قابلِ اعتراض ہیں جو ایسے فراڈیوں کو وی آئی پی بنا ڈالتے ہیں۔

  • Anonymous

    Monday، 1 August 2011 بوقت 10:32 pm

    جناب مومنیں کے سردار،بنیاد پرست صاحب
    سب سے پہلے تو آپکی کوثر و تسنیم سے دھلی زبان کے لیئے آپکا شکریہ!
    باقی انڈونیشیئن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم اولیت رکھتی ہے،
    جہالت تو ایسے ہی رنگ ڈھنگ دکھائے گی نا جیسے آپ دکھا رہے ہیں(اگر جملہ ذو معنی لگے تو آپکی مرضی)

    🙂
    رہاآپکی آنٹی کی کسی بات پر تنقید کا سوال تو معذرت کے ساتھ میں آپکی کسی آنٹی کو نہیں جانتا،اورجاننا چاہتا بھی نہیں ہوں!
    🙂

    Abdullah

  • Anonymous

    Monday، 1 August 2011 بوقت 10:37 pm

    میاں نور محمد بشیر،
    تم اپنے نازک سے دماغ پر اتنا زور نہ ڈالو!!!
    🙂

    Abdullah

  • BILLU

    Monday، 1 August 2011 بوقت 5:54 am

    میں راشد کامران سے متفق ہوں

  • UncleTom

    Monday، 1 August 2011 بوقت 7:48 pm

    بلو بھائی اتنا عرصہ بعد آپکا بلاگ اور آپکو واپس دیکھ کر خوشی ہوئی ۔۔۔۔

  • عطاء رفیع

    Monday، 1 August 2011 بوقت 12:10 pm

    تحریر سے جو میں سمجھا ہوں وہ یہ انکل ٹام نے موازنہ نہیں کیا، بلکہ یہ دو اتفاقیہ تصویریں تھیں جو یک بیک ان کے سامنے آگئیں تو اس میں اتفاق کرنے نہ کرنے کا کیا سوال؟

  • Rashisd Idrees Rana

    Monday، 1 August 2011 بوقت 6:51 am

    بھائیو!

    انڈونیشیا میں میرے علم کے مطابق طلاق کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ پتہ نہیں میری معلومات ٹھیک ہیں یا نہیں۔

    پاکستان میں عزت آبرو اور حرمت بھی ہے نا کہ صرف بے غیرتی ۔ کچھ اچھی چیزوں کا موازنہ بھی کیا جائے تو اچھی بات ہے۔ ویسے اپنے پیٹ پر سے قمیض اٹھانے پہ بندہ خود ہی ننگا ہوتا ہے۔

    تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں۔

  • Muhammad Ali

    Monday، 1 August 2011 بوقت 4:21 pm

    agar ap is pic k sath 22 september k rally jis ki sarbrahi jnb Doctor Tahir ul Qadri sb ney ki us mi mojood khwateen k sath krtey to ziada behtar tha ,,,,,,, ku k ye aik aurat ya is jesi aur khwateen purey Pakistan ki numandagi ni krtin ,,,, bl k ye khwateen hamarey behooda hukmarano k numandagi krti hain,,, jin ki wajac Pakistan gushista kai saalon c AZAB E ILLAHI c guzar raha hi ,,, jin mi aam admi b hisey dar hi ,,,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *