زندگی کو ڈھونڈتا ہوں زندگی ملتی نہیں

موضوع: شاعری

بیچارگی میں رہ کے تو لاچارگی ملتی رہی
زندگی کو ڈھونڈتا ہوں زندگی ملتی نہیں

میری آنکھیں دیکھ کے اِک مردہ تڑپا تھا مگر
مُردہ آنکھیں دیکھ کر تو زندگی ملتی نہیں

آرزویں ، خواہشیں سب حسرتوں میں ڈھل گئیں
بے آرزو رہتے ہوئے تو آرزو ملتی نہیں

میری باتیں سن کے شمع پتھروں میں ڈھل گئیں
شعلہ بیانی سے تو میری موم پگھلتی نہیں

آج انکل ٹام تم ہو ڈھونڈتے آسودگی
آسودگی بھی تم کو تو بے سود ہے ، ملتی نہیں

عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

زندگی کو ڈھونڈتا ہوں زندگی ملتی نہیں پر اب تک 6 تبصرے

  • ابرهىم علي

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 4:52 am

    انكل جى ابهي نظم اصلاح طلب معلوم هوتى هى كوشش كىجءي تو اور بهتر هوسكثى هى. معاف كىجءى عربى فانث مىن اردو لكهنا مشكل هى اسلى تحرىر كى خامىان مىرى تحرىر مىن ذىاده هىن

  • انکل ٹام

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 5:03 am

    ابراھیم علی بھائی انکل ٹام کی کوئی بات اصلاح سے خالی نہیں ، یا تو انکی بات کو اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے یا لوگوں کو انکی بات سے ۔ اگر آپ ہی اصلاح کر دیں تو مہربانی ہو گی ۔

  • Rashisd Idrees Rana

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 6:44 am

    بہت اعلٰی کوشش ہے انکل، بے شک اچھی نظم ہے۔

  • us-siddra

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 10:56 am

    Bahi is ki summary keya ha !!!

  • ابرهىم علي

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 11:05 am

    charagar dhunda kiye la charagi badhthi gayee
    zindagi ko dhundtey hain zindagi milthi nahin
    meri halath dekh kar murdadil bhi kah utthA
    aakhri dam bhi laga yun aagahi milti nahin
    aarzuein khwahishen sab hasratoun mein dhal gayin
    hasratein bakhi rahin be hasrathi milthi nahin

  • انکل ٹام

    Wednesday، 28 September 2011 بوقت 2:35 am

    رانا جی :۔ بہت شکریہ سر

    سدرہ: ایک تو نظم لکھی اوپر سے سمری بھی بتاوں ۔ اللہ لوکو کیوں مجھ غریب پر ظلم کرتے ہو ۔

    ابراہیم علی بھائی :۔ بہترین ، میں انشاءاللہ آپ کے طریقہ کار پر غورکروں گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *