اور یوں میری شادی ہو گئی

موضوع: بینڈ باجا, روشن خیالی, مخولیات

ہمارے ہمسائے میں ایک “آنٹی” رہا کرتی تھیں، وہ روز رات کو اپنے بچوں کو قصص الانبیاء اور حکایاتِ صحابہ پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔ مجھے ہمیشہ حیرانگی رہی کہ بھلا چھوٹے چھوٹے بچوں کو ایسی “سیریس” کتابیں سنانا کتنا ظلم ہے ۔ میں تو اپنے بچپن میں سونے سے پہلے “سینڈریلا”، “پرنسس فراگ” وغیرہ پڑھا کرتی تھی۔ میں جب چھوٹی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ کاش میرے لیے بھی کپڑے چڑیا سئیے ، اور کوئی شہزادہ جوتا پکڑے مجھے بھی ڈھونڈتا ہوا آئے ۔ لیکن ویسے تو میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے ، لیکن میرے ساتھ پتا نہیں کیوا ہوا کہ دو بچوں کی پیدائش کے بعد میری شادی نومبر دس کو ہو گئی ۔ میں اور میرے شوہر ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے تھے ، اور (بلکل بھی بلشنگ نہیں کر رہی میں اس وقت) انہوں نے میٹرک میں مجھے ایک دفعہ پرپوز بھی کیا تھا، لیکن میں نے تو دل میں یہ ہی سوچا تھا کہ ” میں تو کبھی اس چپڑ کناتیے سے شادی نہ کروں گی” ۔ جب میں کچھ بڑی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ نہ ہی میں سینڈریلا جتنی شکل سے خوبصورت ہوں کہ پرنس مجھے ڈھونڈتے پھریں اور نہ ہی میں دل سے اتنی خوبصورت ہوں کہ چڑیا میرا لباس سیئے ۔

کالج کا دور بھی عجیب حسین تھا ، کالج میں میری پہلی محبت وہ لڑکا تھا جسکو کالج کی سب لڑکیاں پیار سے ڈفر کہہ کر بلایا کرتی تھیں۔ میرے محبوب سے میرے پیار کی داستان بھی ڈفر کے مجھے تیسری دفعہ ری جیکٹ کرنے پر ہی شروع ہوئی تھی جب وہ مجھے نہ صرف دلاسے دیا کرتے تھے بلکہ میرا غم غلط کرنے میں استعمال ہونے والی “فروٹ چاٹ” پیپسی ، گول گپے  اور بریانی کی پلیٹوں کے بل بھی کینٹین میں وہی ادا کرتے تھے ۔ بس یہیں سے میرے دل میں انکے لیے محبت پیدا ہونا شروع ہو گئی اور یوں نو نومبر کو میری ان سے شادی ہو گئی ۔

میں نے اپنی شادی میں کسی بھی پنجابی کو آنے کی اجازت نہیں دی ، بلکہ اپنے سسرال میں بھی پہلے ہی اعلان کروا دیا تھا کہ اگر مجھے پتا چلا کہ میری شادی میں کوئی پنجابی آیا تو اسی وقت بھاگ جاوں گی ، اور اگر شادی کے بعد پتا چلا تو محبوب کے گنجے سر پر جوتے ماروں گی ۔اور مجھے بہت خوشی ہوئی جب شادی ہال کے باہر ایک خاص بورڈ بھی لگا دیا گیا تھا کہ “پنجابیوں اور پٹھانوں کو شادی میں شرکت کی بلکل بھی اجازت نہیں” ۔ موٹے بھائی کالے بھائی نے ہماری شادی پر سپیشل چوکیدار بھجوائے تھے جنکا کام دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھنا تھا کہ کوئی پنجابی اور پٹھان قریب نہ پھٹکنے پائے ۔ لیکن وائے ری قسمت جس مولوی نے ہمارا نکاح پڑھایا وہ پٹھان ہی تھا ، کیونکہ اس وقت کوئی اردو مولوی صاحب میسر نہ تھے۔

میری شادی میں اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی ، کافی لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا تمہارے بچے شادی سے پہلے ہی ہو گئے میرا تو انکو ایک ہی جواب تھا کہ ہم امریکہ سے تیز ترقی کر رہے ہیں ۔ شادی کا وقت بہت اچھا گزرا کھانے کے وقت ویٹرز نے کھانا رکھ کر کہا “ٹُٹ پئو ٹُٹ پینیو” تو سب کھانے پر ایسے پڑے جیسے بھائی کے جیالے کسی بھتہ نہ دینے والے ظالم سے حساب کرتے ہیں۔ کھانا بہت زیادہ ضائع بھی ہوا ، جسکا مجھے بلکل بھی افسوس نہیں ، بڑے بڑے دیسوں میں چھوٹی چھوٹی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔

  جو کھانا پھینکا گیا تھا اسکو ایک بچہ اٹھا کر بھاگنے لگا تھا لیکن پکڑا گیا ، ویٹر وں نے اسکی کافی پٹائی لگائی ۔ جسکو دیکھ کر مجھے بہت ہنسی آئی لیکن میری ایک بیٹی نے اسکو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اسی وجہ سے میں نے پھر بچے کو بلایا ، پیار کیا اور میری بیٹی نے پوچھا کہ مما یہ بچہ رو کیوں رہا ہے ۔ میرے پاس اسکو دینے کے لیے جواب تک نہیں تھا ۔ میں نے کہا بیٹا یہ میری شادی پر اظہار تعزیت کر رہا ہے اسی لیے یہ خوشی کے آنسو ہیں ۔ آپکو پتا ہے نہ جب مما زیادہ خوش ہوتی ہیں تو روتی ہیں اسی طرح یہ بچہ بھی رو رہا ہے ۔ پھر میں سوچنے لگی کہ میری بیٹی کس طرح اس ماحول میں بڑی ہو گی ۔ جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی قرآن پڑھنے کے لیے مسجد جانا پڑتا ہے ۔ کسی ظالم ہوتی ہیں یہ مائیں جو اپنے بچوں کو اتنی دیر کے لیے دور بھیج دیتی ہیں ۔ میں تو اپنی بیٹی کو سوائے امریکہ کی “آکسفورڈ یونورسٹی میں بھیجنے کے علاوہ کہیں نہ بھیجوں ۔

شادی کا خطبہ مولوی صاحب نے پڑھایا تھا ، ایک تو مجھے مولویوں سے بہت چڑ ہے ، اتنا گہرا “عطر” لگا رکھا تھا کہ مجھے بھی خوشبو محسوس ہونا شروع ہو گئی۔ مجھے اپنے موجودہ شوہر سے اتنا انس اس وجہ سے بھی ہے کہ نہ تو وہ کبھی کوئی پرفیوم استعمال کرتے ہیں اور نہاتے بھی مہینہ بعد ہی ہیں ۔ اس دن بھی ہماری بہت لڑائی ہوتی ہے ۔ مجھے تو کتنا دفعہ شک بھی گزرا کہ آج ضرور یہ کام کرنے والی ماسی کے ساتھ ڈیٹ پر جا رہے ہیں لیکن شادی سے پہلے پندہرویں ملاقات پر ہم دونون میں طے ہوا تھا کہ جب تک میرے پاس مکمل ثبوت نہ ہو تو میں ان پر شک ظاہر نہیں کروں گی ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میرے “سوکے اور سڑے” رہنے کی ایک وجہ ہر وقت کا شک ہے اور خاص طور پر اسکو اپنے اندر رکھنا۔ بھئی سچ کہہ رہی ہوں اب تک میں نے کسی کو نہیں بتایا بلکل بھی نہیں بس اپنی دو چار سہلیوں کو اور دو کولیگز کے علاوہ اپنی ایک ہمسائی کو بتایا تھا ۔ اور تو کسی کو نہیں بتایا ۔

اور آل شادی اچھی ہی گزری ، کل رات مین نے پیار سے اپنے محبوب کی گنج پر چپت لگا کر کہا ” تو محبوب پھر ہماری شادی ہو ہی گئی” محبوب نے میری طرف ایک حسین مُسکراہٹ سے دیکھا ۔ تب ہی باہر سے آواز آرہی تھی ، ” ابے اسلم تجھے پتا ہے بھائی نے وہ شوکت پٹھان کا “دی اینڈ کروا دیا”۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

اور یوں میری شادی ہو گئی پر اب تک 9 تبصرے

  • جعفر

    Monday، 10 October 2011 بوقت 5:53 pm

    کلاسک ہوتے ہوتے رہ گئی ہے یہ پوسٹ
    تھوڑا سا غور اور ہوجاتا تو “دی اینڈ” ہوجانا تھا

  • عمران اقبال

    Monday، 10 October 2011 بوقت 6:06 pm

    جناب انکل ٹام صاحب۔۔۔ آنٹی کی اس ڈیفینیشن اور انٹروڈکشن کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ آپ کو یاد ہو کہ نا یاد ہو۔۔۔ کہ انہیں آنٹی کے بارے میں میں نے بھی المعروف “محلے کی آنٹی” لکھی تھی۔۔۔
    آپ کو اچھا لگے یا نا لگے۔۔۔قارئین کی آسانی کے لیے لنک یہیں پوسٹ کر رہا ہوں۔۔۔
    http://wp.me/p1wpiT-60
    آنٹی انجوائے کیجیے۔۔۔

  • وقاراعظم

    Monday، 10 October 2011 بوقت 6:31 pm

    یار کاکے انہوں نے تو شادی میں مردوں کا داخلہ بھی ممنوع قرار دلوانے کی کوشش کی تھی لیکن سارا پھڈا یہی پڑا کہ پاکستان میں شادی کے لیے دو مخالف جنسوں کا ہونا ضروری ہے۔ 😀

  • ضیاء الحسن خان

    Monday، 10 October 2011 بوقت 6:58 am

    وہسے شادی کا خیال کچھ جلدی نہیں آگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچوں کی شادی کیساتھ ہی اپنا نکاح پڑھوا لیتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خرچہ بھی بچ جاتا اور روشن خیالی بھی طویل ہوجاتی

  • shamsheer

    Monday، 10 October 2011 بوقت 9:58 am

  • حجاب

    Monday، 10 October 2011 بوقت 11:40 am

    🙂 🙂

  • ڈفر - DuFFeR

    Monday، 10 October 2011 بوقت 12:01 pm

    چلو میں بھی اسی فارمولے پہ عمل کر کے دیکھتا ہوں شائد میری بھی شادی ہو ہی جائے
    پس نوشت: توبہ توبہ استغفار

  • عرفان بلوچ

    Monday، 10 October 2011 بوقت 11:13 am

    بچے شادی سے پہلے ۔۔
    استغفراللہ ۔۔۔
    اللہ بچائے ایسی بے ہودہ ” آنٹیوں ” سے ۔۔
    توبہ توبہ ۔۔۔

  • Homepage

    Monday، 10 October 2011 بوقت 2:24 pm

    … [Trackback]…

    […] Read More here: silent-voice.ca/2011/10/yun-shadi-ho-gaye/ […]…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *