دماغ کا خالی ڈبہ

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, سمجھو اور سمجھاو, نفسیات

ڈھلتی عمر کے ساتھ وقت گزاری میں ایک بڑا حصہ ماضی کی یادیں بھی ہوتا ہے ، ان یادوں میں چھپا پیاروں کا غم ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والوں کا غم اورکسی سے ملنے کی اُمید اور وقتی جدائی کا غم ، کسی کو کھو دینے کا غم اور کبھی کسی کو پا لینے کا غم، کسی کو کچھ کہنے کا غم اور کبھی کسی سے کچھ چھپا لینے کا غم وہ ’’کاش‘‘ اور اُس ’’کاش‘‘ کے ساتھ جُڑا ایک چھتاوے کا احساس ، وہ ’’اگر‘‘ اور  اُس ’’اگر‘‘ کے پیچھے دوڑتے دوڑتے مل جانے والی ’’مگر‘‘ ۔ انسانی دماغ کی میموری چپ میں محفوظ وہ تصویریں اور اُن تصویروں سے مل کر بننے والے وہ سین اور اُن تمام سینوں کو ملا کر بنانے والی وہ فلمیں، وہ افسانے جو مل کر ایک ناول کو جنم دیتے ہیں اور وہ چھوٹی کہانیاں جن میں کچھ بڑے اسباق چھپے ہوتے ہیں ۔ غرض ہم سب کبھی نہ کبھی جب اپنے دماغ میں موجود بظاہر خالی ڈبے میں بیٹھے آرام کر رہے ہوتے ہیں ہم اسی قسم کی کسی نہ کسی چیز کے ساتھ جنگ و جدل میں مصروف ہوتے ہیں ۔

ہر شخص کی طرح میں بھی کبھی اپنے دماغ کے خالی ڈبے مین آرام کرنے جاتا ہوں ۔  مجھے اپنا ماضی اتنا خوشگوار محسوس نہیں ہوتا ، ماضی کے خوشگوار نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ماضی کے چند برے تجربوں کے علاوہ کچھ خاص یاد نہیں ۔ اگر کبھی میں آپکو اپنا ماضی سنانے بیٹھوں تو شاید کوئی اچھی بات نہ سنا سکوں کیونکہ مجھے کوئی یاد ہی نہ ہو گی ۔ ایسا نہیں ہے کہ میرا ماضی مکمل طور پر ہی برا تھا لیکن برے واقعات کی وہ شدت جسکی گہرائی وہ میرے دماغ میں چھوڑ چکے ہیں نے مجھے کبھی خوشگوار واقعات کو سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ مجھے کوئی خوشگوار واقعہ اب یاد بھی نہیں آتا۔

مجھے اپنے ماضی میں واقعات کو تلاش کرنے کے لیے شخصیات کا سہارا لینا پڑتا ہے، بہت سی شخصیات جو میرے ماضی کا حصہ تھیں اب میری یاداشت سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں ۔ میرے ذہن میں اکثر اپنے سکول کے ہم جماعت کسی لڑکے کی ایک دھندلاتی سی شبیہہ گزرتی ہے لیکن میرے دماغ کا پکچر مینجر اُسکو آٹو کُریکٹ کر کے کوئی چہرہ بنانے میں ناکام رہتا ہے اور بس وہ اک بے نام سی شبیہہ ہی رہ جاتی ہے ۔ میرے دماغ کی فوٹو ایلبم میں ایک تصویر ابھرتی ہے ، استاد کے ہاتھ میں ڈنڈا اور اُس ڈنڈے کےسامنے کھلے ہوئے وہ ہاتھ ، میرے دماغ کا سرچ انجن اُس تصویر سے پہلے اور بعد والی تصاویر تلاشنے میں ناکام رہتا ہے ، اُس باریک سے ڈنڈے پر چڑھی ہوئی لال الیکٹریکل ٹیپ تو یاد رہتی ہے لیکن اُس ڈنڈے کو تھامنے والے کا نام محفوظ رکھنے والی فائل میرے دماغ کے ڈاکیومینٹ فولڈ سے ڈیلیٹ ہو چکی ہے ۔ میرا دماغ اُن پھیلے ہوے ہاتھوں سے جُڑے ہوئے چہرے کی تصویر کی کوئی ’’کرپٹ فائل‘‘ بھی تلاش نہیں کر پاتا۔

مجھے کبھی وہ اُستاد کی میز کے ساتھ کھڑے ہوئے لڑکے کا چہرہ نظر آتا اور اُس چہرے پر موجود آنکھوں سے نکلنے والے آنسووٗن کے علاوہ کچھ اور یاد نہیں ۔ وہ کلاس کے سامنے موجود میدان اور اُس میں رکھے ہوئے بینچ ، کبھی ان بینچوں پر ہونے والا رنگ ۔ رنگ کرنے والے ہاتھ کے ساتھ شرٹ کی آستین پر لگے ہوئے براون پینٹ کے دھبے ۔کبھی میدان میں گندے فرش پر بیٹھے لڑکے ، وہ درخت ، اُس درخت کے نیچے کھڑی ہوئی آلو چھولوں کی ریڑھی ، میرا دماغ اُس ریڑھی کی دوسری جانب کھڑے ہوئے شخص کی چہرے اور کپڑوں کی شناخت نہیں کر پا رہا ۔

دوستی یاری میں اچھے برے واقعات و تجربات بھی ہوتے ہی رہتے ہیں ، لیکن مجھے کبھی کبھی جو یادِ ماضی کا دورہ پڑتا ہے وہ میری شخصیت پر کوئی اچھا اور مثبت اثر چھوڑ کر نہیں جاتا ۔ مجھے اکثر یاروں کے ساتھ واقعات بھی برے ہی یاد آتے ہیں ۔ اکثر اچھے واقعات بھی اس انداز سے یاد آتے ہیں جیسے وہ میری زندگی میں آنے والے بھیانک ترین اوقات میں سے ایک تھا ۔ میں دماغ پر زور ڈالتا ہوں ان میں کچھ اچھا اور خوشگوار تلاش کرنے کے لیے ، کچھ ایسا جومیرے چہرے پر ایک مُسکراہٹ کا سبب بنے ، لیکن ناکام رہتا ہوں ۔ شاید یہ ایک سلسلہ ہے کچھ یادوں کی ٹوٹے ہوئے ٹریکس کا جنکو ٹریک بیک کرنا مشکل ہے ۔

بہرحال ، میں لکھنے کچھ اور بیٹھا تھا اور لکھا کچھ اور گیا ۔

رب راکھا ۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

دماغ کا خالی ڈبہ پر اب تک 17 تبصرے

  • جعفر

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:38 am

    دیو داس بننے کی بجائے مشکور علی بن

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:39 am

      اب یہ مشکور علی کون ہے ؟؟ ویسے میں نے دیوداس نہیں دیکھی :ڈ

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 5:12 am

    کاکے پاغلوں آلی باتاں لکھ پاغل نا کر

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 5:44 am

      ہر فلسفی و دانشور کو اسکی موت سے پہلے پاغل ہی سمجھا جاتا رہا ہے :ڈ

  • ابن فاروق

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 5:29 am

    “خاموش آواز”
    آپ پاگل ہو یا پاگل بنا رہے ہو۔
    ٹائم ویسٹ کر دیا
    تمہارا دماغ کا ڈبہ واقع خالی ہے۔۔

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 5:47 am

      او جا اوئے ، ایڈا تو دماغی ڈاخٹر :ڈ

  • Zia

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 6:56 am

    bachpan main G pay jotay paray hotay too sub yad rahta aur baat sun bhai dosra Ashfaq Ahmed banay kee try na maar woo eik hee bohat hay hamaray wastay 🙂

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:31 pm

      او جی بڑے جوتے پڑیں ہیں بچپن میں ۔۔ بلکہ ڈنڈے بھی پڑے ہیں :ڈ
      ویسے میں نے اشفاق احمد کو بلکل نہیں پڑھا :ڈ قصور یہ ہو گا کہ میں بعد میں پیدا ہوا ہوں ، ورنہ اگر اشفاق احمد میرے بعد پیدا ہوتے تو لوگ کہتے اوئے اشفاق دوسرا انکل ٹام بننے کی کوشش نہ کر :ڈ:ڈ:ڈ

  • ام عروبہ

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 9:16 am

    اسلام علیکم
    اکل نوں ہتھ لاؤ سارے ویر- جد انکل نے کہ دتا کہ اج ڈبہ خالی اے تے بس خالی اے، اج کج نئ ملنا اتھوں 🙂 ۔ کسور تساں دا اپنا اے-
    ویسے قصور ہمارا بھی نہیں کہ ہمیں انکل کی باتیں پھر بھی اچھی لگتی ہیں کیونکہ
    empty drum sounds well
    🙂

    ہر انسان کی اپنی طبعیت ہوتی ہے- کچھ لوگ منفی باتیں یاد رکھتے ہیں اور کچھ مثبت-جب میں بھی اپنی بہن کے ساتھ کبھی ماضی کی ورق گردانی کرتی ہوں تو حیران رہ جاتی ہوں کہ اسکو کیسے کیسے شکوے اور دکھ ہیں لوگوں سے اور اب تک یاد ہیں جب کہ مجھے تو وہ باتیں نہ یاد ہیں اور نہ ہی میں نے انکو ویسے دیکھا اور محسوس کیا تھا اس وقت- پتہ نہیں میری convenient memory ہے یا وہ
    glass half empty دیکھتی ہے-
    ٹام نے کہا،
    ”ہر فلسفی و دانشور کو اسکی موت سے پہلے پاغل ہی سمجھا جاتا رہا ہے :ڈ”

    اسکا مطلب ہے کہ لوگ بے وقوف ہیں، تو جب لوگ بے وقوف ہیں تو ان کا دیا ہوا فلسفی اور دانشور کا ٹا ئٹل لینا کہاں کی عقلمندی ہوئ 🙂 ۔ ۔ ۔ تبھی ہم یہ ٹائٹل لینے سے مر جانا بہتر سمجھتے ہیں 🙂

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:37 pm

      میں تو اپنی پوسٹس کے آخر میں اکثر ہی لکھ مارتا ہوں ’’عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام ‘‘ خود کو فلسفی کہلوانے والا میں پہلا فلسفی ہوں :ڈ فلسفیوں میں بدعتی :ڈ

      • ام عروبہ

        Tuesday، 21 February 2012 بوقت 3:54 pm

        اسلام علیکم

        آپ بالکل ٹھیک کرتے ہیں خود کو فلسفی کہ کر، ایک فلسفی ہی فلسفی کو سمجھتا ہے نا کہ غیر فلسفی 🙂

        (معاف کیجئے گا کل پٹھی جگہ جواب دے دیا تھا 🙂 اسکو مٹا دیں ٹام جی 🙂 ف ب کر کر کہ نظریں ہی کمزور ہونی ہیں نا:)) آپکی لائٹ والی ایجاد ادھار لینی پڑے گی :))

        • انکل ٹام

          Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:17 pm

          پہلا تبصرہ ڈیلیٹ دیا ہے ۔ ویسے میں اپنی مشین کرائے پر دینے کا پانچ روپیا فی گھنٹا چارج کرتا ہوں :ڈ

          • ام عروبہ

            Tuesday، 21 February 2012 بوقت 11:13 pm

            اسلام علیکم
            ڈیلیٹنے کا شکریہ-
            بندے آپ ولیتی، مشین آپکی ولیتی ،نہ تو پھر یہ کرنسی کیسے ہو گئ دیسی 🙂 کو ئ ڈالر شالر نہیں چاہئے آپ کو :)- میری طرف سے آپ دس روپئے لے لیں- میری تو چند پینیاں بننی ہیں 🙂
            بالکل ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے شائد:
            nice doing business with you 🙂

          • انکل ٹام

            Tuesday، 21 February 2012 بوقت 11:53 pm

            پیسے کے بارے میرا نقطہ نظر ہے کہ نہ تو بندے کی ضرورت سے کم ہو نہ ہی زیادہ ہو ۔۔ میرے واسطے پانچ ڈالر کافی ہیں ۔ اسی واسطے پانچ ڈالر ۔۔۔کچھ مجھے خود بھی اپنی مشین کی اوقات کا پتا ہے :ڈ۔۔۔

  • علی

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 9:54 am

    انکل جی آپ کے پرانے بلاگ پر آپ نے ایسے لکھا ہے ادھر آ جائو جیسے شادی میں وہ کہتے ہیں مہمانوں کو کھانا لگ گیا ہے ادھر آ جائو پر یہاں کھانے کہ بجائے آپ نے سلامی ہی وصول کر لی۔
    اچھا ہے اچھا ہے تھوتھا چنا باجے گھنا۔خالی ڈبے کے حوالے سے لکھا

    • انکل ٹام

      Tuesday، 21 February 2012 بوقت 4:38 pm

      میں ایم کیو ایم سے کچھ نہ کچھ تو سیکھنا ہی تھا :ڈ

  • وسیم رانا

    Tuesday، 21 February 2012 بوقت 5:40 am

    انکل جی ویسے آپ لکھنا کیا چاہتے تھے کہ یہ لکھ ڈالا، ویسے یہ بھی خاص برا نہیں۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *