حرم میں عشق معشوقی

موضوع: اعلانیات, سمجھو اور سمجھاو, نصیحت و نصائح

ویسے تو اس پوسٹ کا ٹائیٹل نہایت گھٹیہ اور بیہودہ ہے ، لیکن چونکہ اس پوسٹ کے لیے میں لوگوں کی توجہ چاہتا ہوں اسی لیے ایسا ٹائٹل رکھا ہے ۔ کیونکہ اردو پڑھنے والوں کے ہاں ایسی ہی چیزوں کو اہمیت ملتی ہے ۔ اپنے چاچا تارڑز اور اے حمید اہم اہم اہم ۔۔۔۔۔ معذرت کھانسی آگئی تھی :ڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ٹائٹل نہایت بیہودہ ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ جس چیز کی طرف توجہ دلوانا چاہتا ہوں اُسکے لیے یہ ٹائٹل رکھنا پڑا ہے ۔

ہمارے لوگوں کی بہت سی گندی عادتوں مین سے ایک یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات کا بتئوں بنا دیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے انٹرنیٹ پر ایک تصویر گردش کر رہی تھی جس میں ایک باریش حضرت اپنی برقعہ پوش بیوی کے کندھے پر سر رکھے باغ میں بیٹھے ہیں ۔ یار دوستوں نے مولویوں کے خوب لتے لیے اُس تصویر پر ۔ بہت اچھی بات ہے آپ کو چاہیے تھا کوئی ایسی مشین ایجاد کرتے کہ کمپیوٹر کے زریعے اُس تصویر میں اصلی جگہ گُھس جاتے اور مولوی صیب کی وہیں پر لترول کرتے ۔۔۔

اگر ایسا ممکن ہوتا تو اپنا فکرِ پاکستان ایسا کر بھی ڈالتے بقول اپنے بنیاد پرست پائیں اُنکو بڑا تعصب ہے مولویوں سے ۔۔۔ لیکن اُن سے نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ۔ لیکن کچھ بعید نہیں کہ کچھ یار دوست ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہوں ۔

بہرحال بات کہاں سے کہاں نکل گئی ، کچھ عرصے سے انٹرنیٹ پر ایک اور تصویر گردش کر رہی ہے جس میں ایک خاتون اور مرد نے ایک دوسرے کو کمر سے پکڑا ہوا ہے ۔ بظاہر دیکھنے سے تو سین بڑا رومینٹک لگتا ہے اور اُس تصویر کو انٹرنیٹ پر لگا کر کافی لڑکوں نے ظاہری کھانسی بھی نکالی ہے جیسا کہ میں بھی اُوپر نکال چکا ہوں ۔ لیکن اگر آپ تصویر پر غور کریں تو صاحب کی ایک ہی ٹانگ نظر آتی ہے ۔

تو کچھ مثبت سوچ کے حامل افراد کا کہنا یہ ہے کہ ان صاحب کی ایک ہی ٹانگ کام کرتی ہے لہذا اُن کی بیوی یا بہن جو بھی کوئی وہ خاتون ہوں گی اُنکی چلنے میں مدد کر رہی ہیں ۔ لہذا بجائے اِسکے کہ آپ اس تصویر کو دیکھ کر مصنوعی کھانس  کر اپنے غیر شادی شدہ ہونے کا ثبوت دیں اپنی اکھیوں کو پاوں والے حصے پر بھی کچھ دیر مذکور کر دیں ۔ اللہ آپ کو ثواب دے گا ۔۔ اور ہو سکتا ہے توبہ کرنے پر ایک عدد نیک اور صالح بیوی بھی مل جائے ۔۔۔

بس جی مجھے تو اتنا ہی کہنا تھا ۔۔

اللہ کے حوالے ۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

حرم میں عشق معشوقی پر اب تک 13 تبصرے

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Monday، 20 February 2012 بوقت 3:03 am

    جسے اللہ توفیق دی اور جس نے اللہ کے گھر طواف کیا ہے۔
    وہ خوب جانتا ہے۔۔وہاں عشق معشوقی کا ہوش نہیں رہتا۔۔
    دوسروں پہ نظر رکھنے والا تو اتھے وی کوڑا تے مکے وی کوڑا

    • انکل ٹام

      Monday، 20 February 2012 بوقت 3:09 am

      بجا فرمایا حضرت آپنے ۔ اللہ ہم سب پر رحم کریں ۔

  • عبدالقدوس

    Monday، 20 February 2012 بوقت 3:35 am

    ایسی سوچ رکھنے والوں پر دُرشاباش

  • علی

    Monday، 20 February 2012 بوقت 10:08 am

    شاباش اس بندے کی ہے جو طواف کی بجائے وہاں کیمرہ اٹھائے فوٹو کھینچ رہا تھا۔
    چھا گیا ہے بھائی۔

    • عبدالقدوس

      Monday، 20 February 2012 بوقت 11:43 am

      یہ کعبۃ اللہ کے گرد طواف کی فوٹو نہیں ہے

  • ضياُ الحسن خان

    Monday، 20 February 2012 بوقت 11:27 am

    yeah bhi hoo sakta kay ahram khoulnay kay baad Umrah hoo chuka hoo uskay baad ke tasveer hoo yeah 🙂

  • نورمحمد

    Monday، 20 February 2012 بوقت 11:56 am

    ہو سکتا ہے دونوں میں سے کوئی معذور ہو ؟؟؟؟

  • نورمحمد

    Monday، 20 February 2012 بوقت 11:58 am

    معاف کیجیئے گا ۔ ۔۔ ۔ پتہ نہیں کون سا بٹن دب گیا اور پچھلا کمینٹ ارسال ہو گیا۔ ۔ ۔۔ واقعی ہمیں مثبت سوچ اپنانی چاہیئے ۔ ۔ ۔

    جزاک اللہ

  • افتخار اجمل بھوپال

    Monday، 20 February 2012 بوقت 12:28 pm

    یاسر صاحب نے درست کہا ۔ میرا اپنا خیال ہے کہ حرم شریف کعبہ میں سوائے اپنی کوتاہیوں کے اور کچھ یاد نہیں رہتا ۔
    متذکرہ تصویر پر نظر پڑھتے ہی میں مُسکرا دیا ۔ وجہ یہ کہ میں میری بیوی بیوی کی بہن اور بہنوئی تیز تیز چلنے کیلئے قریب ہی فاطمہ جناح پارک میں جاتے ہیں ۔ 18 فروری کو میں نے داڑھی ہوتے ہوئے شرعی پردے والی بیوی کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔ میں انتظار میں رہا کہ کوئی ہماری طرف غلط نظر سے دیکھے تو میں اُسے دماغ کی آنکھیں کھولنے کا مشورہ دوں مگر حسرت ہی رہی ۔ اُس دن میری بیوی کی بہن نہ آئیں تھیں جو اُس کا ہاتھ پکڑے رکھتی تھیں

  • زینب بٹ

    Monday، 20 February 2012 بوقت 7:37 pm

    دیکھنے میں تو یہ برا لگ رہا ہے لیکن رب دیاں رب ای جانے

  • نورمحمد

    Monday، 20 February 2012 بوقت 5:41 am

    محترمہ زینب بٹ صاحبہ ۔ ۔ ۔کبھی کبھار ۔۔ جو نظر آتا ہے وہ اصل نہیں ہوتا،۔۔۔

  • کوثر بیگ

    Monday، 20 February 2012 بوقت 9:33 am

    بہت اچھا لکھا آپ نے
    ابھی آپ کا بلاگ دیکھ رہی ہوں۔۔۔آپ کے عنوانات تو خوب ہیں بھائی

  • جمال شاھد عرفانی سیفي

    Monday، 20 February 2012 بوقت 5:31 pm

    یار ویسے آپ نے بالکل صحیح بات کی ہے آپ نے۔ ہماری قوم میں مثبت سوچ اور رویہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ ہم ہر معاملے میں فوراً خدا بن جاتے ہیں اور دوسروں کی نیتوں پر لعن طعن شروع کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *