پہلے عافیہ اور اب آمنہ

موضوع: رد الملحدین, رونا پیٹنا, صحافیات

پاکستان میں اپنی اولاد پر سودے کرنے اور بیچنے کی روایت پرانی ہو چکی ہے ، مشرف کی شروع کی ہوئی روایات آہستہ آہستہ پوری قوم میں پھیلتی جا رہی ہیں ہر تیسرے دن اخبار میں کسی کی تصویر ایک پوسٹر کے ساتھ ہوتی ہے جو کسی وجہ سے اپنی اولاد بیچ رہا ہوتا ہے ۔   ڈاکٹر عافیہ ، ریمنڈ ڈیوس کیس کے بعد اب حافظہ آمنہ کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے ۔ جس مین جج نے ایک مسلمان حافظہ بچی کو اُسکی مرضی کے خلاف ایک کافرہ ماں کے حوالے کر دیا ۔

جج کا یہ فیصلہ اسلامی قوانین کے مکمل خلاف ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں اس بارے میں احادیث کیا کہتی ہیں ۔

 

عبدالحمید بن سلمہ انصاری اپنے صحابی دادا کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا۔ وہ دونوں اپنے نابالغ بچے کے بارے میں فیصلے کے لیے آںحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آنحضرت صلیٰ اللہ و علیہ وسلم نے باپ کو ایک جانب بٹھایا اور ماں کو دوسری جانب، اس کے بعد بچے کو اختیار دیا کہو ہ جس کے پاس جانا چاہے چلا جائے، مگر ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ ’’یااللہ اس بچے کو سیدھی راہ سمجھا‘‘ چناچہ بچہ اپنے والد کی طرف چلا گیا ۔

(سنن نسائی ،کتاب الطلاق، باب ، إِسْلاَمُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ وَتَخْيِيرُ الْوَلَدِ)

حضرت رافع بن سنانؓ سے مروی ہے جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کی بیوی نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کی نہایت کم سن بچی تھی۔ حضرت رافعؓ نے اس بچی کا مطالبہ کیا۔ مقدمہ لے کر آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع کو ایک کونے میں بٹھایا اور ان کی بیوی کو دوسرے کونے میں بٹھایا اور چھوٹی بچی سے فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کے پاس چلی جاو۔ روایت کے مطابق بچی ماں کی طرف بڑھنے لگی تو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ’’ الھم اھدھا‘‘ اے اللہ اس بچی کو ہدایت عطا فرما، چناچہ بچی باپ کی جانب مڑ گئی  اور حضرت رافع اسے اپنے ساتھ لے گئے ۔

(سنن ابی داود، کتاب الطلاق، بَابُ إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الأَبَوَيْنِ مَعَ مَنْ يَكُونُ الْوَلَدُ)

دونوں روایات بلکل واضح ہیں آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے نابالغ بچے ، بچی کو کافر ماں کے سپرد نہیں کیا ۔ فقہا امت نے لکھا ہے کہ نابالغ بچے کو مسلمان باپ کے سپرد کیا جائے گا تاکہ اسکے دین اور آخرت کا تحفظ ہو سکے ۔

http://www.dailyislam.pk/dailyislam/2012/february/21-02-2012/editorial/mag-05.php

فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ میں لکھا ہے

والذمیہ احق بولدھا المسلم مالم یعقل الادیان او یخالف ان یالف الکفر للنظر قبل ذلک احتمال الضرر بعدہ۔

اور ذمیہ عورت اپنے مسلمان بچہ کی زیادہ حق دار ہے تاوقتیکہ بچہ دینوں کو نہ پہچانے یا یہ خود نہ ہو کہ وہ کفر سے مانوس ہو جائے گا کیونکہ اس سے بچہ کے (حق میں) نظر شفقت ہے اور اس کے بعد ضرر کا احتمال ہے۔

اسکی شرح میں مولانا جمیل احمد صاحب مدرس دارلعلوم دیوبند لکھتے ہیں

اگر کسی مسلام مرد نے کسی ذمیہ کتابیہ عورت سے نکاح کیا پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو یہ بچہ : خیر الابوین دیناً یعنی مسلمان باپ کے تابع ہو کر مسلمان ہو گا مگر اس کی پرورش کرنے کی زیادہ مستحق اس کی ذمیہ ماں ہو گی لیکن استحقاق ذمیہ کے واسطے اسی وقت تک ہو جب تک کہ بچہ میں دین کی سمجھ نہ ہو اور بچہ کے کفر سے مانوس ہونے کا ڈر نہ ہو اور جب بچہ دین و مذہب کو سمجھنے لگے یا بچہ کے کفر سے مانوس ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں بچہ کی پرورش کرنے کی مستحق ذمیہ عورت نہیں ہو گی ۔

دلیل یہ ہے کہ اس حالت سے پہلے بچہ کو ذمیہ کے سپرد کرنے مین اس پر شفقت ہے اور اس حالت کے بعد ضرر کا احتمال ہے اس لئے بچہ جب دین کو سمجھنے لگے تو اس کو زمیہ سے لے کر مسلمان باپ کو دے دیا جائے۔

اشرف الہدایہ جلد پانچ صفحہ ۲۳۱

دوسری بات یہ ہے کہ عورت کو حقِ حضانت (علیحدگی کی صورت مین پرورش کرنے کا حق ) بیٹی کے لیے نو سال کی عمر تک ہے ، وہ بھی اُس صورت میں جب عورت اُسی شہر میں رہتی ہو۔

(مختلف کتب فتاویٰ جیسے فتاویٰ مفتی محمودؒ جلد ۷ صفحہ ۲۱۳)

اُوپر ہدایہ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمیہ (یعنی وہ کافر عورت کو مسلمان ملک میں رہتی ہو ) کو بھی پرورش کا حق اُسی صورت ملے گا جب بچے کے اُسکے پاس رہتے ہوئے کفر سے مانوس ہونے کا احتمال نہ ہو ۔ لیکن یہاں تو جج صیب نے اُس بچی کو ایک کافرہ کے ساتھ ایک کافر ملک میں بھیج دیا ہے ، اور وہ کافر ملک بھی ایسا جہاں اسلام سے نفرت ہی حکومتی طور پر سپورٹ کی جاتی ہے ، مسلمان عورتوں کو نقاب کے حق سے محرورم کرنا اور تجربہ بتاتا ہے کہ فرانسیسیوں میں اسلام نفرت کچھ ویسے ہی زیادہ ہوتی ہے ۔

یعنی جج صیب کا فیصلہ مکمل طور پر اسلامی قوانین کے خلاف ہے ۔

 

جنگ میں اشتیاق بیگ کا کالم۔ اس مسئلہ کے بارے میں پڑھ رہا تھا ، اُس نے بتایا ہے کہ کوئی شخص فرانس ایر پورٹ پر اپنے خاندان کو لینے آیا ہوا تھا اُس نے بتایا ہے کہ بچی کی رو رو کر آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور اُس کی ماں نے اُسکا سکارف بھی اُتروا دیا تھا ۔

 

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’’عدالت جذبات سے نہیں ، آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے ‘‘۔  لیکن اس مسئلہ پر جگہ جگہ ہونے والے تبصرے ، جنگ ، یوٹیوب ، فیس بک وغیرہ پر یہ ہی دیکھا جا رہا ہے کہ تبصرہ کرنے والوں کا وہ گروہ جو اس فیصلے کے حق میں ہے جذباتی فیصلے ہی کر رہا ہے ۔ سب سے بڑی جذباتی لائین ایسے حضرات کی یہ ہے کہ ’’پہلے ویزے کے لیے شادی کر لیتے ہیں تب انکو پتا نہیں ہوتا کہ یہ عورت کافر ہے‘‘۔

جی اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ آمنہ کے باپ نے ویزے کے لیے شادی کی تھی ۔

دوسری بات ،جو انسان ویزے کا لالچی ہوتا ہے وہ ویزے کے بعد ملک نہیں چھوڑتا ، اُسکا اپنی بیٹی کے لیے ملک چھوڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ویزے سے زیادہ فیملی مین تھا اسی لیے اُس نے اپنی بیٹی کی وجہ سے ملک چھوڑا اور اب اس سارے معاملے کو جس طرح میڈیا نے ہائی لائیٹ کیا ہے اُسکو فرانس والے تو اب ویسے بھی گھسنے نہیں دیں گے ، لہذا آپکا یہ کہنا اُس نے ویزے کے لیے شادی کی تھی ایک جذباتی و خیالی ڈھکوسلے سے زیادہ کوئی حثیت نہیں رکھتا ۔

 

 

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

پہلے عافیہ اور اب آمنہ پر اب تک 31 تبصرے

  • کاشف نصیر

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 4:27 pm

    افتخار چوہدری کی ایسی کی تیسی، اس حرام خور کو شرم نہیں آتی کہ مسلمان بچی کو اسکے کارندوں نے زبردستی ایک کافرہ کے بیچ دیا۔

    • ذیشان احمد

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 3:51 am

      بھائی جی ۔۔۔ رولا صرف کرسی دا سی ۔۔۔ کرسی لے کر ظالم فرعون بن گیا۔ کمرہ عدالت میں بڑھکیں‌مارتا ہے اور باہر ۔۔۔۔ بے گے رت 🙁

    • Nephew Tommy

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:25 am

      بھائی اس مسلمان کا کلام دیکھیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔ کیا خوبصورت زبان استعمال کی ہے ایک دوسرے مسلمان کے لیے اس پاکباز مسلمان نے۔

  • عمران اقبال

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 4:55 pm

    یار کاکے۔۔۔ اس بچی کی آہ و بکا سن کر تو میری آنکھوں سے بھی آنسو آ گئے۔۔۔ اس باپ کا کیا قصور، جس سے اس کی لختِ جگر جدا کر دی گئی۔۔۔ جب بچی خود چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اسے اپنی ماں کے پاس نہیں جانا۔۔۔ تو پھر قانون کیوں آڑے آ گیا۔۔۔ اور قانون بھی کونسا۔۔۔ افسوس۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔

    • ذیشان احمد

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 3:53 am

      قانون کون سا بھائی جی ۔۔۔ جو جج شراب پی کر آتے ہوں ۔۔ وہ ایسے ہی فیصلے کرتے ہیں۔ کتوں‌کو نہ قرآن کی تعلیمات کا علم ہے اور نہ ہی حدیث پر عبور ۔۔۔۔ سیاسی باپوں کے پاؤں پڑ پڑ کر جج بن جاتے ہیں ۔۔۔ اور سمجھتے ہیں‌کہ تیس مار خان بن گئے ہیں ۔۔۔

    • Farooq

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:04 pm

      Imran Bhai. Don’t blame the Law . The Fault IS with his father who went to a non Muslim country JUST for dollars and NOT for Islam.He is a hypocrite who has been exposed

      • انکل ٹام

        Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:37 pm

        ماشااللہ آپ لوگوں کا ایمان جانچ لیتے ہیں ۔۔۔ کیسے حاصل ہوتی ہے یہ سکل ؟

  • سعید

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:14 pm

    اگر یہی کام کر نے تھے تو پھر ہم سے الگ ہو کر اسلامی جمہوریہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمارے ساتھ رہ کر بھی یہ کام کئے جا سکتے تھے اور کہیں اچھے پیمانے پر کئے جاسکتے تھے

  • عبدالقدوس

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:23 pm

    پاکستان میں چوول ترین عدالتیں اور چوول ترین چوول ہیں

  • ذیشان احمد

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 3:48 am

    حافظہ آمنہ کی زبردستی بےدخلی سے لے کر آج تک میں نہایت بے بسے کے عالم میں سانس لے رہا ہوں ۔۔۔ بے غیرتی اور بے حسی کے اس دور میں ظالم حکمرانوں سے لے کر بے ضمیر عدلیہ کے غلام ججوں تک ۔۔۔ کی کہانی سن سن کر اور پڑھ کر دکھ اور کرب میں اور اضافہ ہوتا ہے۔
    اللہ۔
    حافظہ آمنہ کی عزت و ناموس کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔ اور اس معصوم کو زندہ سلامت دوبارہ پاکستان آنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

  • جبران

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:23 am

    تحریر کے منصف سے لے کر تبصرے کرنے والے حضرات صاحب نے بڑے ہی آرام سے اپنی جہالت کا پہاڑ جتنا ثبوت فراہم کیے، لگے رہو بھائی۔
    یہی جج ہے جو آپ کا واحد مسیحا ہے اور دو منٹ میں یہی مردود ٹھہرتا ہے۔

    ماں چاہے جیسی بھی ہو ایک بچے کی پرورش اس سے اچھا کوئی نہیں کر سکتا۔ کافر یا جو بھی ہو اس سے ماں جیسے رشتے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    ویسے بھی مسلمانوں نے کون سے تیر مار رکھے ہیں۔ سب سے بڑے بدکردار تو یہ خود ہیں۔

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 11:48 am

    کس کس کو روئیں اور کہاں تک روئیں۔۔۔۔ ایک بار اللہ کا عذاب آجائے تو اکھٹا ہی رو لیں گے۔

  • ملک

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 3:33 pm

    مضمون پڑھ لیا ہے .. ویسے نیوز چینل پر یہ خبر بھی دیکھ لی تھی اور اس پر تبصرے بھی سن لیے تھے .. انصاف کی کرسیوں اور حکومت میں بیٹھے مسلمانوں کے بھیس میں کفار خبیث ہیں یہ .. یہ کسی مسلمان کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ کبھی نہیں رکھتے .. آخر انکی اولادیں اور انکی آخری عمر کافروں کے ساتھ انکے دیسوں میں ہی گزرنی ہیں تو کفار کے مفادات کا خیال ان سے زیادہ کس نے رکھنا ہے

  • Bilal Imtiaz Ahmed

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 5:20 pm

    بس ہم لوگوں کو تو یہی آتا ہے، جس سے زرا سااختلاف ہوا، بس فوری فتووَں کی پٹاری کھول لی، یہ پاکستانیوں کا پرانا دھندا ہے، پہلے یورپی میم کے ساتھ ڈیٹنگ کرتے ہیں اس وقت انہیں اسلام یاد نہیں آتا، کیا اسلام میں ڈیٹنگ { اصلی والی، پارکوں میں بیٹھنے والی نہیں} صریح زناء نہیں ہے؟؟ اس وقت انکے اندر کا مسلمان کہاں جاکر مر جاتا ہے؟ جب شادی مغربی قانون کے مطابق کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کے طلاق بھی اسی قانون کے مطابق ہوگی اور گھر اور سامان کی تقسیم سے لیکر بچوں کی سرپرستی تک کا معاملہ اسی قانون کے مطابق حل ہوگا۔ جب شادی کی دستاویز پر دستخط ہوتے ہیں اسے وقت میاں بیوی ایک معاہدے کا حصہ بن جاتے ہیں، اب یہ معاہدہ جس قانون کے تحت لکھا گیا تھا اسی قانون کے تحت ختم ہوگا اور ختم ہونے کا بعد کے معاملے بھی اسی قانون کے ذریعے نمٹائے جائیں گے۔
    اس وقت ان کے اندر کا مسلمان کہاں جاکر مرجاتا ہے جب وہ ایک تحریر شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بچے کو اغواء کرکے پاکستان لے آتے ہیں ، پھر اسکا برین واش کرکے ماں سے نفرت معصوم بچوں کے دماغ میں بھر دیتے ہیں۔ ویسے وہ یہ قانون ہی تھا کہ جس نے بچے کی سرپرستی ماں کو دینے کہ باوجود باپ کو بچے سے ملنے کے حق کو سلب نہیں کیا اور باپ بچے سے ملنے کے بہانے بچے کو اغواء کرکے ناصرف ماں کا سرپرستی کا حق بلکہ اسلام کے نام پر اپنے ہی بچے کی شکل تک دیکھنے کے حق سے محروم کردیتاہے۔

    اگر آپ لوگوں کو دین پر بھروسہ ہے تو بچی کو رہنے دیں سات سال ماں کے پاس اگر اسکا ایمان مضبوط ہے تو وہ خود اٹھارہ سال کی عمر میں واپس آجائے گی، لیکن اسکا باپ خود اپنی حرکتوں کی وجہ سے بچی کی عمر اٹھارہ سال ہونے تک اسکے دیکھنے کی حق سے محروم ہوگیا،،
    ویسے بھی وہ اسکی ماں ہے بچی سے محبت ہی کرے لیکن باپ کی طرح اس کا برین واش نہیں کرسکے گی، اسکو اپنی پسند نہ پسند کرنے سے نہ روک سکے گی کیوں کہ وہ اس کے ملک کا قانون ہے، یورپی ماں بچی کو پر ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتی اور بچی کو آزادی ہے جوچاہے کرے نماز پڑہے روزے رکھے قرآن پڑھے ماں اسی یورپی قانون کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتی البتہ اگر وہ یہ چیزیں یہاں پاکستان میں نہ کرے اور اپنی مرضی چلائے تو باپ اسکی کمبل کٹ لگاسکتاہے۔

    • انکل ٹام

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 8:54 pm

      جناب بلال امتیاز صاحب آپکو چاہیے تھا کہ آپ بھی اپنے بھونڈے جذبات کو اپنی جیب میں رکھتے اور پھر میرا مضمون پڑھ کر کمنٹتے ۔ میں نے پہلے احادیث نقل کی ہیں اور پھر ان احادیث پر فقہاء امت کے اقوال نقل کیے ہیں ۔جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس سے غرض ہی نہیں کہ حافظہ آمنہ کے باپ نے شادی کی بھی تھی یا نہیں اور اگر کی تھی تو کس قانون کے مطابق کی تھی ۔ مجھے اس سےبھی غرض نہیں کہ کہ اُسکا باپ اسکو اغوا کر کے لایا تھا یا قانونی طریقے سے لایا تھا ۔

      ۔مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ ایک مسلمان باپ کی مسلمان بیٹی تھی جو مسلمانوں کے ملک میں رہتی تھی ۔

      دوسری بات آپ نے یہ کی کہ اس بچی کا برین واش کر دیا حالانکہ اس بچی کے بیانات کو دیکھتے ہوئے یہ بات نہایت بھونڈی اور غلط معلوم ہوتی ہے ، اس بچی کا بیان ہے بقول اشتیاق بیگ صاحب کہ میں اپنی ماں کے ساتھ چلی جاوں اگر میری ماں مسلمان ہو جائے ۔ جناب بلال صاحب اگر بچی کا برین واش کیا ہوتا تو وہ اپنی ماں کے ساتھ جانے سے مکمل طور پر انکار کر دیتی اور یہ شرط نہ لگاتی ہے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ چلی جاوں گی اگر میری ماں مسلمان ہو جائے ۔۔۔ وہ تو جانے کو تیار ہے اپنی ماں کے ساتھ ۔۔ اس بچی کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے اختلاف میں صرف ماحول تلاش کرتی ہے ، اسلام کا ماحول وہ اپنے باپ کے ساتھ رہنے کو پسند کرتی ہے کہ اُسکے باپ کے پاس اُسکو اسلامی ماحول ملتا ہے وہ یہ ہی چیز اپنی ماں سے مانگتی رہی کہ آپ مسلمان ہو کر مجھے اسلامی ماحول فراہم کریں میں آپکے ساتھ جانے کو تیار ہوں۔

      چلیں مان لیا کہ باپ نے بچی کا برین واش کیا تھا ، اُسکو مسلمان بنا دیا تھا آپ مجھے بتائیں کہ کیا اُسکی ماں اُسکا برین واش نہیں کرے گی ؟؟؟

      اُسکی ماں تو کافرہ ہے اُسکی ماں کے بارے میں کیا بعید اُسکا برین واش اسلام کے بارے میں بھی کر دے ۔۔۔ آپ کی باتوں میں کتنے تضادات موجود ہیں ، آپ اُس بچی کے باپ کے خلاف جو باتیں سوچتے ہیں حیرت ہے کہ اُسکی ماں کے بارے میں وہی خیالات آپکے پاک و پوتر دماغ میں نہیں آتے ؟؟؟ یہ دوغلہ پن کیوں ؟؟؟؟

      جناب مجھے دین پر بھروسہ ہے اور ہر انسان کو بھروسہ اور امید ہوتی ہے ، لیکن ماحول انسانی زندگی اور اُسکے کردار کی تعمیر میں بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ آپ دس سال تک اپنے بچے کو کنجر پنا سکھا کر ۹ سال کے لیے کسی مدرسے میں بھیج دیں ، پھر میں آپکو کہوں گا کہ آپ نے اگر اُسکو کنجر پنا اچھا سکھایا تھا تو بھروسہ رکھو وہ مولوی نہیں بنے گا ۔۔۔ آپ جب اُسکو کفر کے ماحول میں بھیج رہے ہیں اور میں نےا شتیاق بیگ کے مضمون سے حوالہ بھی دیا تھا کہ اُسکی ماں نے ایر پورٹ سے نکلتے ہی اُسکا سکارف بھی اُتروا دیا تو آپ مستقبل میں کیا امید رکھتے ہیں ؟؟؟

      آپ نے کہا اُسکی ماں ہے بچی سے محبت کرتی ہے ، اگر اتنی ہی محبت ہے تو بچی کی خاطر مسلمان ہو کر اُسکو ایک ایسا ماحول کیوں فراہم نہیں کرتی جسکی بچی کو خواہش ہے ، بچی نے تو خود ہی کہا تھا کہ میں اپنی ماں کے ساتھ جانے کو تیار ہوں اگر میری ماں مسلمان ہو جائے تو اگر اُسکی ماں کو اتنی ہی محبت ہے بچی سے تو اُسی وقت کہتی کہ ہاں بیٹا میں تمہارے لیے ہی مسلمان ہو جاتی ہوں ۔

      آپ نے کہا کہ یورپی ماں ایک بچی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی یہ قانونی طور پر تو بلکل ٹھیک ہے لیکن ہر وقت قانون کے خلاف کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے آپ کے خیال سے کیا فرانس والے اپنے قانون پر ایسے چلتے ہیں جیسے کسی فیکٹری میں ڈبے بیلٹ پر ؟؟؟ جناب کبھی آپ فرانس کے پراسٹیٹیوشن سسٹم کے بارے میں تھوڑی تحقیق کر لیں کیسے چلتا ہے پھرمجھے بتائیے گا کہ فرانسیسی اپنے قانون پر کتنے عامل ہیں ۔
      باپ اسکی کمبل کٹ لگا سکتا ہے لیکن اگر کبھی باپ نےا سکی کمبل کٹ لگائی ہوتی تو وہ پہلے دن ہی عدالت میں کہہ دیتی کہ ابا تو بڑا مارتا ہے میں ماں کے پاس ہی جاوں گی ۔۔۔

      مجھے آپ جیسے لبرل سکیولر لوگوں کے دوغلے پن پر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے دلائل کے سامنے آپ لوگ خیالی مفروضات کو لے کر شور مچاتے ہو ۔ جب قرآن کہہ رہا ہے کہ جو عورتیں کافر سے مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائیں انکو کفار کے حوالے نہ کرو تو عدالت کا ایسا فیصلہ کرنا اسلام کے اصولوں اور قوانین کے سخت خلاف ہے ۔

      یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡہُنَّ ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِہِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡہُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡہُنَّ اِلَی الۡکُفَّارِ ؕ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحِلُّوۡنَ لَہُنَّ ؕ وَ اٰتُوۡہُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ؕ وَ لَا تُمۡسِکُوۡا بِعِصَمِ الۡکَوَافِرِ وَ سۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَ لۡیَسۡـَٔلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰلِکُمۡ حُکۡمُ اللّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰﴾
      اے ایمان والو جب آئیں تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر تو ان کو جانچ لو اللہ خوب جانتا ہے انکے ایمان کو [۲۲] پھر اگر جانو کہ وہ ایمان پر ہیں تو مت پھیرو اُنکو کافروں کی طرف نہ یہ عورتیں حلال ہیں اُن کافروں کو اور نہ وہ کافر حلال ہیں ان عورتوں کو اور دیدو اُن کافروں کو جو ان کا خرچ ہوا ہو اور گناہ نہیں تم کو کہ نکاح کر لو اُن عورتوں سے جب اُنکو دو انُکے مہر [۲۳] اور نہ رکھو اپنے قبضہ میں ناموس کافر عورتوں کے اور تم مانگ لو جو تم نے خرچ کیا اور وہ کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا یہ اللہ کا فیصلہ ہے تم میں فیصلہ کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے [۲۴]

  • بنیاد پرست

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:43 pm

    ٹومی اور جبران کے کمنٹس سے لگ رہا ہے کہ یہ ایک ہی بندہ ہے ۔ دونوں کا تحریری سٹائل ایک ہے اور دونوں کو برابر غصہ ہے۔ بلاگ کے ذمہ دار سے گزارش ہے کہ اگر ایسا ہی ہو تو اس کو ظاہر کریں ورنہ میری تحریر سے دونوں کے نام علیحدہ علیحدہ کردیں ۔
    جناب ٹومی عرف جبران صاحب ہم نے تو جج کے فیصلے کے خلاف دلیل سے بات کی ہے اس کو آپ جھٹلا رہے ہیں اور جس نے یہ فیصلہ دیا ہے اسکے فیصلے کو آپ بغیر کوئی دلیل دیے ناصرف جائز کہہ رہے اور جج کو پاکباز مسلمان بھی کہہ رہے ہیں ۔ کیوں ؟ کیا یہی آپ کے ہاں انصاف کا معیار ہے کہ جو آپ کے موقف کے خلاف بات کرے چاہے وہ دلیل سے کررہا ہوں وہ آپ کے نزدیک جاہل اور یہود سے بھی بدتر ہے ۔ اور جو آپ کی مرضی کی بات کرے وہ بے دلیل کے بھی پاکباز مسلمان ہے ! !۔ آپ اگر سمجھتے ہیں کہ مصنف نے غلط لکھا ہے تو اسکا دلیل سے رد کریں۔ آپ فرما رہے ہیں کہ مصنف نے اپنی جہالت کا ثبوت دیا ہے،جناب آپ اس طرح بات کرتے ہوئے کونسے علم کا ثبوت دے رہے ہیں ؟۔
    جناب ہمارے مذہب کا تو یہ خاصہ ہے کہ ہمارے ہاں شخصیت پرستی نہیں ہے ۔جو حق بات کرتا ہے ہم اسکی تائید کرتے ہیں جو غلط کرتا ہے اس کا دلیل سے رد بھی کرتے ہیں، اگر آپ ہماری تاریخ سے واقف ہیں تو جانتے ہونگے کہ ہماری عمر رضی اللہ عنہ جیسے خلیفہ کو ممبر پر ایک صحابی نے روک لیا کہ آپ کے جسم پر دو چادریں کیوں ہیں جبکہ سب کو ایک ایک ملی ؟ اس جیسی ہزاروں مثالوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔
    آپ نے فرمایا کہ بچے کی پرورش ماں سے ذیادہ اچھی کوئی نہیں کرسکتا چاہے وہ کافر ہو یا مسلمان۔ مذہبی منقولی پہلو سے تو اوپر تحریر میں بات ہوچکی، میں عقلی پہلے سے بھی ثابت کرسکتا ہوں کہ آپ کی یورپی عیسائی ماں کو بچے کی پرورش نہیں کرنی آتی ، وہاں کے معاشرے کی بے راہ روی کی وجہ سے وہاں کا اخلاقی نظام تو بچوں کے لیے تباہ کن ہے ہی خاندانی تربیتی نظام بھی بری طرح تباہی کا شکار ہے ، وہاں کی ماؤں نے بچوں کی پرورش صرف انکی ضروریات پوری کرنے کو سمجھ لیا ہے ، چاہے وہ کڈہومز کے ذریعے ہو یا گھر میں ملازمہ رکھ کر، وہاں کی ماں بچوں کو جتنا ٹائم دیتی ہے اس میں وہ صرف مارکیٹ گھوم آتے ہیں یا سینما دیکھ آتے ہیں، صرف اسی بچے کی پرورش سمجھتا جاتا ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ اور بے حیائی کے ماحول اورکڈز ہومز میں پلنے والے یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو جس بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں اسکی مثالیں آپ کےسامنے ہوں گی ، وہاں کی لڑکی بارہ سال کی عمر میں ماں بن جاتی ہے۔ یورپ و امریکہ میں کمر عمری میں شادی کرنے والی بچیوں اور بغیر نکاح کیے حاملہ ہوجانے والی لڑکیوں کی تعداد تقریباً3ملین سالانہ ہے امریکہ میں ہر سال ایک تہائی لڑکیاں اپنے مرد ساتھی کے ہاتھوں قتل کردی جاتی ہیں امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ہر پانچ منٹ میں ایک آبروریزی کی واردات ہوتی ہے۔وہاں کے جوانوں کی اکثریت طرح طرح کے نشے میں سکون تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ یہ وہاں کے عام حالات ہیں ، اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ نے یہاں کے خاندانی نظام کو بھی دیکھا ہوگا ، پاکستانی معاشرہ دوسری چند وجوہ سے جتنا بھی گرا پڑا ہے لیکن اس پہلو سے ابھی بھی کافی بہتر ہے ۔ ۔ خالص دینی گھرانوں میں تو ایک تربیتی نظام ہے ہی عام گھرانوں میں بھی بچوں کا ایک تربیتی نظام ہے ۔اسکی وجہ سے خاندانی نظام بھی قائم ہے ، بچے کی پرورش صرف ماں نہیں کرتی بلکہ باپ ، دادی، نانی، خالہ ، پھوپھی سب اپنی اپنی کوشش کرتے ہیں ، اس لیے جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو اسے انکے حقوق کا بھی پتا ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں دادی کی موت بھی گھر میں پوتے پوتیوں کے پہلو میں ہوتی ہے اور آپکے اس معاشرے میں بوڑھی ماں اور بوڑھا باپ اولڈ ہومز میں مررہا ہوتا ہے۔اور بچے کہیں شراب میں مست ناچ رہے ہوتے ہیں۔

    • انکل ٹام

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 9:01 pm

      ہر وقت مُلا اور مولوی کو جذباتیت کا طعنہ مارنے والے لبرل فاشسٹ جب اپنا دفاع کرتے ہیں تو بھونڈی دلیل بھی اُنکی جیب سے نہیں نکلتی صرف جہالت سے بھرپور لفاظی میں ڈوبے بکواسی جذبات رہ جاتے ہیں ۔ یہ ہی حال جبران المعروف ٹامی کا رہا جس نے بکواسی حرکت کی کہ نام بدل کر کمنٹ تو کر دیا لیکن اتنی عقل نہ رہی کہ آئی پی ہی تبدیل کر لیں ، خیر ۔ یہ پرنٹ سکرین کا لنک ہے ۔

      http://i.minus.com/igkYDMwWD5ehN.jpg

      صحیح کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔ بنیاد پرست بھائی نے بھی خود پہچانا اس دوغلی شخصیت کو ۔

      • ڈاکٹر جواد احمد خان

        Thursday، 23 February 2012 بوقت 10:29 pm

        ٹومی یا جبران کو مزید کھنگالیں گے تو مجھے پورا یقین ہے کہ اس میں سے عبداللہ المعروف بارہ سنگھا برآمد ہوگا۔

        • ام عروبہ

          Thursday، 23 February 2012 بوقت 10:43 pm

          اسلام علیکم
          کیسے ہیں جواد بھائ؟
          بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا اور شیر کی کھال میں گدھا تو سنا تھا مگر یہ جبران کی کھال میں بارہ سنگھا میرے لیئے نیا محاورہ ہے 🙂

          • انکل ٹام

            Thursday، 23 February 2012 بوقت 10:48 pm

            اس محاورے کو سمجھنے کے لیے آپکو بلاگستان میں روشن خیالی مینڈکوں اور بنیاد پرست شیروں کے درمیاں ہونی والی مباحث کی تاریخ جاننی پڑے گی ۔

            بارہ سنگا ایک روشن خیالی دماغی مریض ہے جو ہر جگہ اپنی روشن خیالی کے سینگ اڑاتا ہے ، اسی وجہ سے اُسکو جعفر بھائی کی طرف سے بارہ سنگا کا نام ملا ہے ۔۔ ویسے تو وہ کوئی بلاگر ہی ہے جو نام بدل کر تبصرے کرتا ہے لیکن جو نام وہ استعمال کرتا ہے وہ عبداللہ ہے ۔

    • ام عروبہ

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 10:38 pm

      اسلام علیکم
      ٹومی =جبران
      ماشاءللہ بنیاد پرست بھائ آپ تو خط دیکھ کر متن بتانے والوں میں سے ہیں، کاش افتخار چوہدری کی جگہ آپ جیسے لوگ ہوتے عدالت کی کرسی پر-
      کیا بنے گا اس قوم کا جسکے راہبر ہی اندھے ہوں!

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 10:24 pm

    حالانکہ اس سارے مسئلے میں بحث کی گنجائش محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن پاکستانی لبرلز کا کمال یہ ہے وہ ہر چیز چاہے وہ کتنی ہی بنیادی اور مسلمہ کیوں نا ہو، بحث و مباحثہ کا بازار گرم کردینے میں مہارت رکھتے ہیں۔
    فرانس وہ ملک ہے جہاں پاکستانی لبرلز کی پسندیدہ آزادیاں اپنی انتہا پر ہیں۔ ایک عورت کچھ سالوں کے لیے شادی شدہ زندگی گذارتی ہے پھر ایک آدھ بچہ پیدا کرتی ہے اور پھر “سچی محبت” کی تلاش میں بوائے فرینڈ پر بوائے فرینڈ بدلتی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے اسکا بوائے فرینڈ خود “سچی محبت” کا متلاشی ہوتا ہے۔ پھر انکے یہاں زندگی انجوائے کرنے سے بڑا مقصد کچھ اور نہیں ہوتا۔ اور اس مقصد کے لیے شراب اور سیکس دو بڑے اہم ذرائع ہیں۔
    جذباتی اور قلبی تعلق پالنے کی کبھی غلطی نہیں کرتے۔ قربانی دینے کی تو ہر گز نہیں اولاد تک کے لیے بھی اپنے وقت ، مال اور تفریحات کی قربانی کا کوئی تصور نہیں ہے۔
    کچھ سالوں پہلے برطانیہ کی ایک سائٹ پر سینیر سٹیزن کی حالت زار پر مباحثہ ہو رہا تھا جس پر میں نے بھی حصہ لیا اور برطانیہ میں اس رجحان کی بھرپور مذمت کی اور مادہ پرستی کے خوب لتے لیے تب ایک برطانوی عورت نے مجھ سے میری قومیت کے بارے میں پوچھا اور دریافت کیا کہ تمہیں تکلیف کیا ہے؟ میں نے جوابی سوال کیا کہ تمہارے خیال میں یہ مناسب ہے کہ والدین کو اس عمر میں جب انہیں ایک گھر اور اولاد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس طرح سے اپنی زندگیوں سے بےدخل کردیا جائے۔ تو اس پر وہ بولی کہ تمہیں جن چیزوں کا علم نا ہو ان پر مت بولا کرہ۔ میری ماں نے میرے باپ سے اس وقت طلاق لی جب مجھے باپ کی سخت ضرورت تھی۔ پھر مجھے ۱۸ سال کی عمر میں اس وقت بالکل بے سہارا چھوڑ دیا جب مجھے زندگی میں سہارے کی از حد ضرورت تھی اور اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک لمبے ہنی مون پر چلی گئی۔ اس کے بعد کئی سال تک میں ایک جسمانی اور روحانی عذاب سے مستقل دوچار رہی ۔ وجہ اسکی صرف یہ تھی کہ میری ماں کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ یورپ اور دنیا کی سیر کرنی تھی اور اس کام کے لیے گھر کا بیچنا ضروری قرار پایا۔ اب کچھ سالوں پہلے بوڑھی اور بیمار حالت میں میرے پاس آئی تو میرے لیے ممکن نہیں رہا کہ میں وہ سب کچھ بھلا دوں لہذا میں نے اسے اولڈ ہوم جانے کا مشورہ دیا اور سختی سے تاکید کی مجھ سے کسی قسم کی امید نا رکھے۔
    لیکن ہمارے یہ لبرلز ۔۔۔۔ انکی سمجھ میں یہ چیز کبھی نہیں آئے گی۔ کیونکہ اندر سے یہ بھی اسی تہذیب کے دلدادہ ہیں۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا انکے نزدیک ایک مستقل پشیمانی اور دین پر عمل ایک ناقابل معافی گناہ ہے۔
    کوئی ان سے پوچھے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان ، فرانس کی کوئی کالونی ہے جس پر وہاں کے قوانین کا اطلاق کیا جا رہا ہے؟ جسطرح سے اس ملک کے قوانین کو بائی پاس کر کے فرانسیسی عورت کے حق میں فیصلہ دیا گیا ۔ جس طرح بچی کو اسکے شدید احتجاج ، آہ و بکا اور مزاحمت کے باوجود زبردستی اٹھا کر فرانسیسی سفارتخانہ پہنچایا گیا کیا ایسا کسی اور ملک میں کبھی دیکھا ہے؟
    کیا اسکا مصباح ارم کی طرح فیصلہ نہیں کیا جاسکتا تھا؟ اور اگر ہوجاتا تو کیا پاکستانی لبرلز تالیاں بجاتے؟

  • نعمان محمد

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 11:26 am

    یہاں بلال امتیاز صاحب کی گفتگو پر کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کتنے وثوق سے یہ کہا کہ باپ نے ڈیٹنگ کی، زنا کیا، ویزہ حاصل کرنے کا لالچ تھا اسے، وغیرہ وغیرہ، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس باپ نے برین واشنگ کی، اور پھر ایک چھلانگ لگائی اس کی ماں کی طرف اور پہلے سے بھی زیادہ وثوق سے فرمایا کہ اسکی ماں برین واشنگ نہ کرے گی۔ یہ تو وہی بات ہوئی، مدعی سست گواہ چست۔ جناب اتنا ہی بتا دیتے کہ اتنے سارے الہامات جناب کو کس تاریخ کو آئے۔ جناب اس عورت کے حق میں اس قدر شدت اختیار کرتے ہیں کہ جناب کو اپنے آس پاس کا بھی جیسے کچھ ہوش نہ رہا ہو۔

    ۱- پہلی بات تو یہ ہے کہ انکل ٹام صاحب نے اپنے مضمون میں کسی شخص کا دفاع کرنے کی کوئی بات ہی نہیں کی، بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف قانون ، اسلامی اقدار اور شرعی اصولوں کی روشنی میں ایک اسلامی جمہوری ملک کی عدلیہ کے ایک فیصلے پر تنقید تھا۔ جس کو آپ شخصی دفاع کی جانب لے گئے۔

    ۲- دوسری بات یہ کہ “کسی پر کوئی الزام بازی کرنے سے پہلے” اور “کسی کا دفاع کرنے سے پہلے” کچھ سوچ لیا کریں اور حدود و قیود کا بھی خیال رکھ لیا کریں تو بہت بہتر ہو گا۔

    ۳- برین واشنگ کی بات ہے تو آپ نے کہا کہ وہ عورت برین واشنگ نہ کرے گی، جبکہ اسکا شاید آپ کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے، جبکہ اگر میں کہوں کہ وہ اس بچی کی برین واشنگ کرے گی تو میرا ایسا کہنے میں وزن بھی ہو گا، کیوں کہ امریکہ و برطانیہ کی تاریخ سے لے کر موجودہ دور تک اہم شخصیات، میڈیا اور عوام اسلام کے خلاف کیا کیا پراپیگنڈہ نہیں کرتے، اور کیا کیا جھوٹ نہیں بولتے، تو لازمی سے بات ہے کہ وہ عورت بھی اس بچی کو بھٹکانے کے لیے اسلام پر کئی الزامات لگا کر اسے بدظن کرنے کی کوشش کرے گی۔۔۔۔اب آپ کیا فرمائیں گے؟؟؟

    ۴- جب آپ بغیر مضمون کے مقصد اور باطن کو سمجھے اور دلیل کو جانے بحث کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں اور دلیل کے مقابلے خالص مفروضوں پر آٹکتے ہیں اور کسی ایک شخص پر مفروضوں کی بنیاد پر الزامات لگاتے ہیں تو اس شخص نے چاہے اسلام کے نام پر ایسا کیا ہو یا نہ کیا ہو، آپ مفروضوں پر بات کرتے ہوئے جب اس بندے کی بدنامی کرتے ہیں اور ساتھ اسلام کا نام لیتے ہیں تو کیا، یہ صرف اس شخص کی بدنامی ہوتی ہے یا اسلام کو بھی ساتھ بدنام کر رہے ہوتے ہیں۔ خدارا کچھ خیال کیا کریں آپ اسلام کے نام کو کسی کی بدنامی کے لیے جب استعمال کرتے ہیں تو وہ شخص تو بدنام ہو نہ ہو، اسلام کے نام پر بدنامی کا دھبہ ضرور لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ امید ہے آپ اسلام کی خاطر اسلام کے نام کو کسی کے بدنامی سے جوڑنے سے پہلے کئی بار سوچیں گے۔

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 11:49 am

    ہمیشہ ان ترقی یافتہ ممالک میں دیکھا کہ مسلمان ان کفار کے سامنے بچھے جا رہے ہو تے ہیں۔
    دیندار اسلام کو پر امن اور دوست مذہب جتانے کیلئے اور نام کے مسلمان ووئی آر موڈرن مسلم جتانے کیلئے۔
    ڈنڈا تن کے حق بات کرنے کی طاقت جب ہو تو جناب پھر دیکھئیں ہم بھی کہ کیسے مسلمان بچے کافروں کے حوالے کر دیئے جائیں۔
    قانون اسی کا ہوتا ہے جس کے پاس ڈنڈا ہوتا ہے ،۔۔۔ہیں جی

    • ام عروبہ

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 11:07 am

      اسلام علیکم
      ہاں جی ۔ ۔ ۔ بالکل یاسر بھائ سچ کہا آپ نے۔
      ہتھیار کے بغیر ایک مسلمان سجتا ہی نہیں- ڈنڈا نہ سہی تو پتھر ہی سہی اپنے فلسطینی اور کشمیری بھایئوں کی طرح-
      پر بھروسہ تو اسکو اپنے اللہ پر ہی ہوتا ہے۔ تبھی اسکے پتھر بھی میزائل بن کر لگتے ہیں کفار کے دل پر- اسکے ایمان کی بدولت-
      ابھی کل کی خبر ہے کہ طالبان نے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون پھڑکا دیا 🙂 اپنی کسی اسلامی غلیل سے الحمدلللہ-

  • ام عروبہ

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 11:58 am

    اسلام علیکم
    صا حب مضمون نے بھی اور باقی سب نے بھی حق کہا، سوائے دوہری شخصیت یا تثلیثی شخصیت رکھنے والے فرد کے۔
    اور بلال امتیاز بھائ کو اسلام کو مزید جاننے کی ضرورت ہے-

    یہ سب صالح ، صحیح ، متوازن اور مذہبی سوچ کے لوگ بلاگز/جسارت وغیرہ میں ہی کیوں ہیں؟ ہماری عدالتوں اور حکومتوں میں کیوں نہیں ہیں؟ 🙂

  • ارتقاءِ حيات

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 2:47 pm

    ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دینے سے ملک کا قانون اسلامی ہو جائے گا؟
    کیا عدالتوں میں اب تک تمام فیصلے اسلامی قوانین کے مطابق ہو رہے ہیں؟
    کیا معاشرہ اسلامی طرز پر استوار ہو رہا ہے؟

    میں یہ نہیں کہہ رہی کہ فیصلہ درست ہوا یا غلط
    مگر ہم چند واقعات کو ہی موضوع بناتے ہیں اور پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھول جاتے ہیں
    ایسا کہ جیسے صبح ہوئی اور سبزی والے نے پرانے مال پر پانی چھڑک کر تازہ کیا ور بیچنے نکل پڑا

    اب ہمارا اسلام ایسی ہی سبزی کی دکان بنا ہوا ہے
    ہر ایک کی دکان سجی ہے فتوؤں کا بازار لگا ہے
    کچھ ماہ بعد سب بھول جائیں گے کہ کون آمنہ کیسی آمنہ

    آئین مین تبدیلی ہو سکتی ہے قانون میں نہیں؟

    ہمارا آئین جانے کس کس کو کس کس چیز سے مثتثنٰی قرار دیتا چلا جا رہا ہے کیا اسے تبدیلی کی ضرورت نہیں؟

    قانون کا رخ جانے قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے
    اس کا رخ قرآن و سنت و صحابہ کے قرائین کے مطابق استوار کیا جائے

    ورنہ ایسے مزید واقعات کا مزید سامنہ کرنے کو تیار رہیں
    اس سے بلاگ کی تحاریروں میں بھی تو مقبولیت آتی ہے
    خوب تبصرہ جات ہوا کرتے ہیں

    اسلامی معاشرے میں انون کی بالا دستی کے لئے اسلامی علم جاننے والوں کو قانون کا محافظ تو بنائیں
    ان لوگوں کو تو بند کرنے اور لال مسجد کی طرح محاصرہ کر کے شہید کر دیا جاتا ہے

    اسلام کی ہو گئی بالا دستی

    لال مسجد کا سانحہ ہوا کچھ ہوا قانون میں ردو بدل؟
    عوام بس تف تف کر کے کام دھندوں میں لگ جاتی ہے

    کل پرسوں آپ اور میں بھی آممنہ اور جانے کس کس کو بھول چکے ہوں گے
    آئیندہ آنے والے واقعے تک

  • بلاامتیاز

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:16 am

    یار مجھے کوئی یہ بتا دے کہ پاکستان میں کون سا قانون لاگو ہے۔۔
    میں بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا ہوں

  • Farooq

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:01 pm

    This was a real tragedy but before blaming Cj for this go and ask the father who went to a Kafir Country looking for pounds and dollars and married a christian women. All these frauds go to these Non Muslim countries for Money ONLY and have NO concern for their Religion. .Then one day they wake up try to convert their families and selves to Islam.
    These are True hypocrites
    Read this column of Javed for a Better understanding
    http://www.javed-chaudhry.com/qanoon-jeet-gaya-amna-haar-gae-javed-chaudhry/

    • انکل ٹام

      Thursday، 23 February 2012 بوقت 6:36 pm

      جناب فارق صاحب ، آپ کی ان تمام باتوں کا جواب مضمون اور کمنٹس میں دیا جا چکا ہے ۔ امید ہے آئندہ مکمل چیز پڑھ کر جواب دیں گے ۔۔ مہربانی ۔ اور جاوید چودھری میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔۔۔ میں قرآن کو اور قرآن سمجھنے والوں کو اہمیت دیتا ہوں اور قرآن کیا کہتا ہے یہ میں بتا چکا ۔

  • crestarMahmood Hassan

    Thursday، 23 February 2012 بوقت 7:50 pm

    Hamain bhee zati tour per bohat afsous houa thaa laikin here are a few points to be noted; 1) Prophet Mohammad SAW gave the option to the children, laikin unn kee dua’a tou Allah swt nain qabool ker lee hamaray jessay gunnahgar keyaa karain; 2) Mera khiyal hey mother was Christian not “kaffir” aur Islamically “people of the book” say nikah kee ijazat hey tou yehaan per keyaa Islamic ruling apply nahin houtee kay baligh hounay tuck bachaa maan kay pass rahey; 3) baap kou burra bhala kehnay kee zarrorat nahin; situations develop which are beyond our control; 4) Judges nain tou faislaa law of the land kay mutabiq kernaa hey, unhain burraa bhala kehnay kee bajayey humain law kou daikhnaa chahey; and 3) mujhey yeh samajh nahin attee kay aik taraf humm main say bohat say lougg Islam kee batain karain gay laikin sath hee ghaleez tareen zubaan bhee dousroun kay baray main istamal kertay hain.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *