بے ربط بکواس

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, سمجھو اور سمجھاو, نفسیات

لوگ کہتے ہیں کہ مجھے دوسروں کی یاد نہیں آتی ، کچھ کا خیال ہے کہ میں نہایت بے حس انسان ہوں ، شاید ، شاید یہ باتیں کسی حد تک سچ بھی ہوں ، لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ کتنی سچ اور کتنی جھوٹ ہیں ۔ ہر کسی کو اپنا دماغ استعمال کر کے سوچنے کا اختیار ہے ، میرے خیال سے میں فلحال کچھ لوگوں پر اپنی سوچ مسلط نہیں کرنا چاہتا ۔ اپنی سوچ استعمال کریں اور سمجھیں ، اور جو وہ سمجھیں میں انکو سمجھنے دوں ۔ اگر وہ غلط نتیجے پر بھی پہنچیں تو میں انکا نتیجہ تبدیل نہیں کروانا چاہوں گا ۔

تو ، پھر کل مجھے سالگرہ کا تحفہ ملا ، پہلی بار زندگی میں کسی غیر نے سالگرہ پر تحفہ دیا ، حالانکہ میری سالگرہ نہیں تھی ، لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ، نہ ہی میں نے بتایا کہ بھئی میری سالگرہ نہیں ہے ۔ تو سمجھو جو سمجھنا ہے ۔ چاہیے ۳۵ فروری کو ہی میری سالگرہ کر دو ، دو بندے ، دو بندوں کو میری سالگری کی غلط تاریخ یاد رکھنے پر کوس چکے ہیں ۔ کوسنے والوں کی کوسنیاں سن کر خوب ہنسا میں ۔اور اب تیسرے بندے کا ایس ایم ایس آگیا ہے سالگرہ کی مبارکباد کے لیے ۔۔۔۔۔

کئی دفعہ میں سمجھتا ہوں کہ میں لوگوں کو سمجھتا ہوں ، اور یہ بھی کہ لوگ بھی مجھے سمجھتے ہیں ، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ، پھر افسوس ہوتا ہے کہ یار اس بندے کے سامنے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی ، کہ یہ مجھے سمجھنا تو درکنار یہ تو میری گرد کو بھی سمجھا  ۔ مجھے زندگی میں اپنے پیسوں کے ضائع ہونے کا اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا الفاظوں کے ضائع ہونے کا ہوتا ہے ۔ شاید میں اپنے الفاظوں کو پیسوں سے بھی زیادہ اہمیت دیتا ہون ، کچھ   لوگوں کے ہاں الفاظوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ، ہر وقت بولتے رہتے ہیں ۔

کئی دفعہ میں سوچتا ہوں کہ مجھے یہ چیز نہایت ناپسند ہے ، پھر وہی چیز کرنے لگتا ہوں ، اب جیسے میں یہ سمجھا تھا کہ مجھے ہر وقت کا بولنا اور باتونی ہونا بلکل بھی پسند نہیں ، میں نے کتنے ہی لوگوں سے اپنی کلاس کے اُس موٹے لڑکے کی شکایت کر دی جو میرے پاس میں ہی بیٹھتا ہے اور ہر وقت بولتا رہتا ہے ۔ ویسے تو یہ سچی بات ہے کہ مجھے اُسکے ہر وقت کے بولنے سے نہایت تکلیف ہوتی ہے ، میں کتنی ہی دفعہ اُس سے الٹا جواب دے دیا ، وہ بھی مجھے سے کتنی دفعہ ناراض ہو لیا کہ تم مجھ سے بدتمیزی سے پیش آتے ہو لہذا آئندہ میں تم سے بات نہیں کروں گا ، اور پھر وہ بات شروع کر دیتا ہے ۔

لیکن یہ بنیاد پرست کا جو میں ہر وقت دماغ کھاتا رہتا ہوں ، کہیں بنیاد پرست کے لیے میں بھی تو وہ موٹا نہیں ؟؟؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے دوسروں کی یاد نہیں آتی ، دوسروں سے بھی سالوں بعد بات کر کے یہ ہی سننے کو ملتا ہے کہ تجھے ہماری یاد نی آتی ؟؟؟ لیکن آخری دفعہ مجھے اُسکی شدید یاد پچھلے سال کی نیو ایر نائٹ کو آئی تھی ، بلور سٹیشن کے باہر ایک بابا بالٹیوں کو استعمال کرتے ہوئے فُٹ پاتھ پر بیٹھ کر ڈرمنگ کا شوق پورا کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ سٹی ہال کے سامنے لوگوں کو برف پر سکیٹنگ کرتا دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ سی این ٹاور کے پیچھے سے جھیل کی طرف جاتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ جھیل کنارے کھڑے ہو کر ، بارش کے پانی کو جھیل پر گرتا دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ بارش کے قطروں کے جھیل پر گرنے سے پیدا ہونے والی آواز کو میں وہاں کھڑا کافی دیر تک سنتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ تب بھی مجھے اُسکی بہت یاد آئی تھی ۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اُسکو میری یاد نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے کبھی آئی مس یو والی بکواس نہیں کی تھی ۔

اپنے الفاظوں کو ضائع نہ کرنے پر خوشی ہے ، اور ضائع کیے ہوئے الفاظوں کے کارگر نہ ہونے کا افسوس ۔۔۔۔ اگر میں الفاظوں کی جگہ کچھ عمل کر لیتا تو شاید مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔ عجیب بات ہے ۔۔۔۔ لیکن کئی دفعہ انسان کو اپنی اچھائی پر افسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے بھی ہوا ۔۔۔۔۔۔ شاید میرے اچھائی پر جمے رہنے سے دوسروں کو جو نقصان ہوا اُسکو دیکھ کر ۔۔۔۔۔ یا شاید مجھے اچھائی پر جمے رہنے سے کوئی فائدی نہیں ہوا اور میری اس حرکت سے جو دوسرے فائدہ اٹھا گئے  اس وجہ سے ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں اچھائی کا فائدہ مستقبل میں کہیں نہ کہیں مل جاتا ہے ۔۔۔۔ میں بھی انتظار میں ہوں ۔۔۔۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ میں جب اچھائی کا فائدہ لینے لائن میں کھڑا ہوں تو پتا چلے کہ وہ تو اچھائی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔ یا قبول نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے اُسکی یاد آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی دفعہ کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ تسلیم کر لینا کہ آپکو بھی یاد آئی ۔۔۔۔ حالانکہ اُس شخص کی شدید خواہش ہوا کرتی تھی میرے منہ سے یہ سننے کو کہ میں نے اُسے یاد کیا ۔۔۔۔

وہ: تو تم نے مجھے بہت مس کیا ہو گا

میں: نہیں ، میں ایسے بے ہودہ شوق نہیں پالتا

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

بے ربط بکواس پر اب تک 12 تبصرے

  • علی

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 10:51 pm

    چلو بہرحال سالگرہ مبارک ہو

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 12:45 am

    چلو جنم دن مبارک۔
    ایویں ہی اتنی لمبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھائی !
    سیدھی طرح کہہ دیتے جنم دن کی مبارک باد دو۔

  • انکل ٹام

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 1:48 am

    میری سالگرہ نہیں ہے ، یہ تو دوسرے سمجھے کے میری سالگرہ ہے ۔۔۔ آپ لوگ پڑھنے کے باوجود مجھے مبارکیں دے رے ۔۔۔ :ڈ

  • افتخار اجمل بھوپال

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 5:01 am

    کسی نے کہا تھا “سمجھ سمجھ کر جو نہ سمجھے ۔ میری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے”
    کچھ اسی طرح کی کہانی آپ نے بھی لکھ دی ہے ۔ مجھے صرف اتنا سمجھ آیا ہے کہ آپ کے چاہنے والے چاہتے ہیں کہ آپ اُنہیں چائے یا کھانے پر مدعو کریں جس کی خاطر اُنہوں نے آپ کو بغیر تاریخ کی سالگرہ مبارک دینا شروع کر دی ۔ تفکّر کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے کہا ہے
    شکر کر اللہ کا ۔ تہمت نہ رکھ مہمان پر
    رزق کھاتا ہے وہ اپنا تیرے دسترخوان سے

    • انکل ٹام

      Sunday، 4 March 2012 بوقت 9:03 pm

      پارٹی کے لیے بھی لڑکوں کے فون آگئے لیکن میری کنجوسی بدستور قائم ہے :ڈ

  • نعمان محمد

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 11:14 am

    مجھے تو یہی لگتا ہے کہ اصل بات جو تُو کہنا چاہتا ہے نا چاچے جی کی شکل والے والے کہ تُو کسی کو مِس کر را ہے۔ اور “وہ” تجھ سے ایس لیے نراض ہے کہ تُو چاچا بُزدل اسے دل کی بات کرتا نی ہے، اور ادھر گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ تُو مجھ جیسے کسی سیانے سے مشبرہ کر تو تیری یہ بے ربطگیاں وِی ختم ہو جانی ہیں اور بے رابطگیاں وِی۔

    • انکل ٹام

      Sunday، 4 March 2012 بوقت 9:03 pm

      کچھ کچھ تو آپ بھی سمجھ گئے ہو لیکن پوری گل بات صحیح سمجھے نی ۔۔۔۔ :ڈ

  • ام عروبہ

    Sunday، 4 March 2012 بوقت 1:24 pm

    اسلام علیکم
    ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیئے
    خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھیئے

    وہ تو شکر ہے کہ آپکی سالگرہ نہیں ہے، اگر ہوتی بھی تو ہم مبارک باد نہ دیتے کہ ہم کچھ زیادہ ہی بنیاد پرست واقع ہوئے ہیں اور اب سالگرہ منانے پر یقین نہیں رکھتے- کر لو جو کرنا ہے 🙂
    جو دکھ آپ نے پھرولا ہے اس پر یوں سر عام لب کشائ سے شریعت ہمیں باز رکھتی ہے-
    مگر اتنا ہم کہے دیتے ہیں کہ صنف نازک کے ہاتھوں یوں ایک مرد آہن و حر کا استحصال ہوتے دیکھ کر دکھ بہت ہوتا ہے- یہ کیسا طلسم ہے کہ بندے کی ساری سقراطی و بقراطی و ذہانت و علمیت بے بس ہو جاتی ہے- شائد اسی لئے شاعر نے کہا ہے کہ
    پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

    صحیح ہے یا غلط مگر ایسا ہوتا ہے اور ہوتا آیا ہے،
    اللہ آپکےدل کو سکون اور اطمینان کی دولت سے نواز دے آمین،

    • انکل ٹام

      Sunday، 4 March 2012 بوقت 9:04 pm

      آپ کا کمنٹ پڑھ کر مجھے بستی بستی کیوں مسوس ہو ری ہے :ڈ:ڈ
      :D:D

      • ام عروبہ

        Sunday، 4 March 2012 بوقت 10:17 am

        اسلام علیکم
        افوہ، ہم معذرت خواہ ہیں اگر آپکو بستی مسوس ہوئ-ہمارا مقصد اور نیت ہر گز یہ نہ تھی-
        دراصل اسی لئے ہم نے disclaimer کے طور پر اوپر شعر لکھ دیا تھا کہ ہم کو نہیں معلوم کہ کیا کہنا چاہئے- عقل مندی کا تقاضا تھا کہ چپ رہا جائے مگر،
        میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

        یعنی کہ ہم عورت واقع ہوئے ہیں اور عورت کے لئے خاموش رہنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے 🙂
        سو جو چیز تقاضا کر رہی ہے اور جسکا تقاضا کیا جا رہا ہے دونوں ہی ہماری کمزوری ہیں 🙂

        ہم نے کوشش تو بہت کی تھی ناپ تول کر لکھنے کی مگر ہماری فطری ہمدردی نما نصیحت کا رنگ جھلک ہی پڑا
        اور شائد آپکو ہم سے وہی شکایت ہو گئ جو غالب کو اپنے احباب سے ہوئ تھی

        یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
        کوئ چارہ ساز ہوتا کوئ غم گسار ہوتا

        اگر اب بھی میری کوئ بات بری لگی تو اپنی پوسٹ کے ٹائٹل کا جواب سمجھ کر معاف کر دیجئے گا 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *