انکار

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, افسانویات, فی البدیہ, نفسیات

عشاء کے لیے نیت باندھنے کی بجائے امی مُسلے پر کھڑے ہو کر مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ، میں نے چاولوں کی پلیٹ میں چمچ ہلاتے ہوئے اچانک پیچھے مُڑ کر دیکھا ، ’’چُپ کرو اوئے ، کیا یہ ٹیں ٹیں لگا رکھی ہے ؟‘‘ چند سیکنڈ کے لیے ٹین ٹین بند ہو گئی ، بھائی اچانک اپنے کمرے سے نکل آیا ، کھڑا ہو کر تھوڑی دیر مجھے دیکھتا رہا ، پھر اندر چلا گیا ۔ ٹیں ٹیں کی آوازیں آنا بند ہو گئیں تھیں۔ میں نے چمچ کو جھٹکے سے چھوڑا اور اُٹھ کر امی کی طرف قدم بڑھا دیے ، وہ ٹُکٹکی باندھے مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ۔

امی جی ، میں نے اُن کے کندھے پر بائیاں ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا ، میں ایک لڑکی کو جانتا تھا ، وہ بھی مجھے جانتی تھی ، آپکے علاوہ دنیا میں وہ واحد عورت تھی جو مجھے اتنا جانتی تھی ، امی یہ سن کر شاید پلکیں جھپکانا بھول گئیں تھیں ، کل اُس نے مجھے ٹورانٹو ریفرینس لائبریری بلایا ، اُسکی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ وہ دنیا کہ اُن دو عورتوں میں سے ایک ہے جنکی آنکھوں میں مجھے آنسو برداشت نہیں ، لیکن اس دفعہ میں پونچھ بھی نہ سکا ، پرسوں اُسکی فلائٹ ہے پاکستان کی ،’’آخری بار مجھے بتا دو ، کیا میں اپنے ممی پاپا سے بات کروں ؟‘‘ اُس نے کپکپاتی آواز میں مجھ سے پوچھا تھا ، اور شاید اور شاید میرے پاس اُسکو دینے کے لیے ایک ’’ناں‘‘ کے سوا کچھ بھی نہ تھا ، وہی ناں جو وہ ہمیشہ سنتی رہی۔

امی نے اچانک منہ پھیر لیا ، شاید ان میں  میرے چہرے پر موجود اُس انجانی مُسکراہٹ کو دیکھنے کا حوصلہ نہ تھا ۔

’’اور آپ جانتی ہیں مجھے اُس سے اتنی اُلفت کیوں تھی ؟‘‘

امی نے منہ میری طرف پلٹا

’’اُسکی تنہائی کی وجہ سے ‘‘

امی کے کان میں آہستگی سے کہے گئے یہ الفاظ شاید اُنکے دماغ میں گونجنے لگے تھے ، وہ کھڑی کھڑی اچانک بیٹھ گئیں ، شاید وہ نیت باندھنا بھول گئی تھیں ۔

ٹین ٹین کی آواز جو اب وہ سُن نہیں سکتی تھیں کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے مجھے پھر سے سنائی دینے لگی ۔

اگر یہ پڑھ کر آپکو کچھ سمجھ نہیں آئی ، تو آپ کو میری بچپن سے لڑکپن کی کچھ یادیں  پڑھنی چاہیے شاید کچھ پلے پڑ جائے

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

انکار پر اب تک 19 تبصرے

  • Umme Arooba

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 8:35 am

    اسلام علیکم
    جب آپ اسکو اپنا نہیں سکتے تھے تو اتنا زیادہ کیوں جانا؟ جو ناں آخیر میں آکر کی وہ شروع میں کرنی تھی-

    • 123

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 12:04 pm

      سو فیصد ٹھیک کہا آپ نے۔۔۔۔۔۔

    • انکل ٹام

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 7:14 pm

      میں نے تھوڑی سی تبدیلی کر دی ہے ، آپکے آدھے سوال کا جواب شامل کر دیا ہے ، جبکہ آدھے کا جواب شاید فلحال میرے پاس نہیں ہے ۔

  • یاسرخوامخواہ جاپانی

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 10:16 am

    بیچارہ عاشق
    ظالم سماج اس کی راہ میں دیوار بن گیا

  • افتخار راجہ

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 10:31 am

    میرے خیال میں یہ کسی ماہر نفسیات کا کیس ہے یا پھر کسی ہتھوپیتھک کے ہتھے چڑھنا چاہئے، ہیں جی،
    حد ہوگئی ہے جی، اس طرح ناں کرتے رہوگے تو زندگی بھر انکل ہی رہو گے، اباجی بننے کے چانس نشتا

    • انکل ٹام

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 7:15 pm

      میں تو خود ہی ماہر نفسیات ہوں جی ، ہومیو پیتھک والا مسئلہ :ڈ:ڈ:ڈ سر جی کہیں آپ انکل ٹام کو ڈفر سے تو کنفیوذ نی کر رہے ؟؟؟ :ڈ:ڈ:ڈ
      یار ڈفر معاف کریں :ڈ:ڈ

      • Umme Arooba

        Tuesday، 3 April 2012 بوقت 1:20 pm

        Assalamoalykum
        aap zaroor hongy mahir nafsiyat mgar is wqt to aap ny ye khani hmary sath share kr k ham sab ko apni tehleel nafsi pr uksa diya hay 🙂

        waisy kisi ki tanhaee ki wja sy us say ulfat nhiN hamdadri hoti hay awr is hamdardi main uski tnhaee ko khatam kiya jata hay na k uski tanhaee ko brqrar rakhny ki koshish

        owr ham to bas aisy hi undhairy main teer chla rhy hain 🙂

        lgta hay is muamly main aap khud undhairy main hain owr mzeed roshni
        dalny say qasir hain

        blood phobia ka sun kr dukh hoa

  • ڈاکٹر جواد احمد خان

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 11:05 am

    بہت خوب۔۔۔۔
    اس صورتحال میں آپکا رویہ بہت دلچسپ ہے اور شاید اسکی وجوہات ہیں جنہیں آپ بتانا مناسب نہیں سمجھتے۔ یقینی طور پر آپ گذرے وقتوں کے شاعر نہیں ہیں جو محض عشق کی ناکامی کی اذیت محسوس کرنے کے لیے خود کو محبوب سے الگ کرلیا کرتے تھے۔ میں ابھی تک یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ آپکا تنہائیوں کی طرف میلان پھر تنہائیوں کی اذیت سے بےحال ہونا کسی درد انگیز واقعہ کا نتیجہ ہے یا یہ ایک علامتی رویہ ہے ایک علامتی احتجاج کی طرح۔۔۔
    تحریر میں گہرائی نا ہو اسرار نا ہو بین السطور بات نا ہو تو پڑھنے کا مزا نہیں آتا

    • انکل ٹام

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 7:18 pm

      میں ایک اپڈیٹ کیا ہے ، آپ اس افسانے کی سب سے آخری لائین دیکھیں ۔

  • عمران اقبال

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 12:37 pm

    یہ کیا ہے؟ اگر یہ حقیقت ہے تو ۔۔۔ وی نیڈ ٹو ٹاک۔۔۔

  • بنیاد پرست

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 4:43 pm

    بھئی کہانی سچ ہے یا افسانہ ہمیں اس سے کیا غرض ؟ یہ انکل ٹام کا پرسنل مسئلہ ہے وہ شیئر کرنا چاہیں گے تو دوستوں کے ساتھ کردیں گے ، ہمیں تو انکل کا لکھنے کا سٹائل پسند آیا، تحریر کو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ ان میں ایک اچھے سٹوری ٹیلر، افسانہ نگار کی خوبیاں پائی جاتیں ہیں۔لکھتے رکھو انکل

  • نعمان محمد

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 4:45 pm

    چاچے یہ ٹیں ٹیں کی آواز کا کیا راز ہے؟

    • انکل ٹام

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 7:11 pm

      سر جی میرے پاس دو طوطے ہیں ، میاں چیکو شکیل سینئر ، میاں چیکو شکیل جونیر ۔ اس بلاگ پر سردار طوطو سنگھ کے نام سے میاں چیکو شکیل سئنیر پر میں لکھ بھی چُکا ہون ۔

      طوطوں کو اگر ایک دفعہ ڈانٹیں تو وہ چند سیکنڈ کے لیے چُپ کر جاتے ہیں لیکن اُنکی ٹیں ٹیں پھر شروع ہو جاتی ہے ، پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے ۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 4:03 am

    اگر یہ افسانہ ہے تو کامیاب کیونکہ تبصرے فٹا فٹ آ گئے ہیں ۔ اگر حقیقت ہے تو کہیں چُول رہ گئی ہے کیا خیال ہے چچا ٹام جی ؟

    • انکل ٹام

      Tuesday، 3 April 2012 بوقت 5:56 pm

      ہے تو یہ افسانہ ہی :ڈ

      • Umme Arooba

        Tuesday، 3 April 2012 بوقت 9:06 am

        Assalamoalykum
        acha ye sirf afsana hay,ham to samjhay thay ye aik haqeeqat aik afsana type ki cheez hay. khyal tha aap sirf non-fiction writer hain pr ab pta chala k aap fiction kay shahswaar bhi hain 🙂

  • aamir

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 3:33 pm

    aap ka naaa kehna banta b ha. kyun k dono tanhai pasand hein, har waqt tuk tuki bandh kar aik dusray ko duur se hi dekhtay rahein gey. aap se aap k totay achay jo tein tein to kartay hein. lol

  • ارتقاءِ حيات

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 3:43 pm

    کچھ سمجھ نہ آسکی

  • نتیجہ :گھر داماد | خاموش آواز

    Tuesday، 3 April 2012 بوقت 4:37 am

    […] اس نے مجھے کہا تھا کہ اگر تم اب بھی ہاں کر دو تو میں اپنے … […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *