قصہ اک بد تہذیب درویش کا

موضوع: بینڈ باجا

qadiyani
ویسے تو میں چاہتا تھا کہ اس مسئلے پر ایک بلاگ پوسٹ لکھ دوں، لیکن آج کل کچھ نجی مصروفیات ہین اور ان سے بھی زیادہ سستی چڑھی ہوئی ہے کہباوجود خواہش کے میں کوئی بلاگ پوسٹ لکھ نہیں پایا، عرض اتنی ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ میں اپنی مڈ ٹین ایج سے ہی علمی کاموں کے شغف میں مبتلا رہا ہوں، اور پورے پورے دن لائبریری میں کتابیں پڑھتے ڈھونڈتے گزارے ہیں، اور اپنی ٹین ایج میں ہی ردِ قادیانیت کا علمی کام کرنے کا موقع ملا ہے، جسکی وجہ سے میرے رد قادیانیت کے حوالے سے متحرک لوگوں سے سلام دعا بھی رہی ہے، اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ اکثر قادیانی مربیوں سے اس حوالے سے مباحث بھی ہوئے ہیں اور الحمداللہ اس میں میری کوئی بڑائی نہیں بلکہ حضور نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی فضیلت ہے کہ اپنے سے تین چار گنا بڑی عمر کے مربیوں سے مرزا کی سیرت پر مباحثے کئیے ہیں اور انکو ناکوں چنے چبوائے ہیں، اور یہ علمی مباحثے اب بھی انٹرنیٹ کی اکثر ویب سائٹس پر موجود ہیں، اور مقصد کسی بات پر غرور و تکبر کرنا نہیں ہے کہ اللہ ہمیں بچائے رکھے ایسے رویوں سے، جو لوگ میرے بلاگ کو عرصہ سے فالو کر رہے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ شروع میں جب میرا بلاگ ورڈ پریس پے کے پر ہوتا تھا تب میں نے اپنے بلاگ پر مرزا قادیانی کی سیرت کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں اس زمانے میں بلاگستان میں قادیانیت کے تبلیغ کرنے والوں کو کھلے عام ایک علمی مباحثے کی دعوت دی تھی، اور چونکہ ورڈ پریس پی کے والی سائٹ بند ہو گئی تھی لہذا میری وہاں کی تمام پوسٹس بھی ضائع ہو گئی تھیں۔

 

ایک دو سال پہلے ایک اردو بلاگر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں کینیڈا کے ایک صحافی کا بڑا کردار تھا، اور اردو بلاگرز نے اس اردو بلاگرز کانفرنس کو کامیاب کروانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا، اور ملک بھر سے اردو بلاگرز اس کانفرنس میں شامل ہونے کو لاہور پہنچے تھے، اس وقت فاروق درویش نامی ایک شخص نے بہت فساد مچایا تھا اور بغیر ثبوت کے کافی لوگوں پر الٹے سیدھے الزامات عائد کئیے تھے، جن میں ایک الزام اکثر حضرات پر قادیانی ہونے کا بھی تھا، اس وقت بھی اردو بلاگرز کی اکثریت ایک طرف تھی جبکہ فاروق درویش صاحب ایک طرف تھے۔

 

بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ سیدہ سارا غزل نامی آئی ڈی فاروق درویش ہی کی ہے اور اس آئی ڈی کو چلانے والے بھی فاروق درویش صاحب ہیں اور یہ بات بہت سے سمجھدار اردو بلاگرز کو بھی معلوم ہے اور سوشل میڈیا کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص فاروق درویش صاحب کی پروفائل اور سیدہ سارا غزل کی پروفائل دیکھ کر باآسانی ڈڈکٹ کر سکتا ہے ۔

 

کچھ دن پہلے سیدہ سارا غزل کی آئی ڈی سے فاروق درویش نے کچھ لوگوں کو گالیاں وغیرہ دی تھیں اور قادیانی ہونے کا الزام لگایا تھا، اس پر ہمارے محترم بلاگر دوست ڈاکٹر جواد صاحب نے صرف اس مفہوم کی بات لکھی تھی ’’ اپنے ہر مخالف کو قادیانی بنانا ٹھیک رویہ نہیں ہے‘‘ اس پر ڈاکٹر صاحب کو جو برا بھلا کہا گیا، اس پر ڈاکڑ صاحب کا ہی کا بڑا ظرف اور ہمت اور برداشت ہے کہ اسکا برا منانے کی بجائے ان تبصروں کے سکرین شاٹ اپنی وال پر چٹکلے کے طور پر لگا دئیے، جس پر اکثر بلاگر دوستوں نے انکی مذمت کی کچھ نے اپنے انداز سے مذاق بھی کیا۔

 

اس پر فاروق درویش صاحب نے بجائے اسکے کہ اپنا رویہ درست کریں، اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں یا جن کے ساتھ انہوں نے زیادتی کی ہے انسے معذرت کریں، فاروق درویش صاحب نے ڈاکڑ جواد صاحب اور ان تمام لوگوں کو اپنی وال پر گالیاں دینا شروع کر دیں جنہوں نے ان تبصروں کی مذمت کی تھی، اور رمضان کے مبارک مہینے کا بھی نہ کچھ خیال کیا نہ کچھ غیرت کی اور ایسی ایسی گالیاں دیں کہ ہم نے زندگی میں پہلی دفعہ سنی تھیں ، الامان والحفیظ۔ ان گالیوں کی زد میں ڈاکٹر جواد صاحب، ڈاکٹر افتخار راجہ اٹلی والے، میرے محترم اونی چاں یاسر خوامخواہ جاپانی ، جعفر حسین، اور میرا نام بھی شامل تھا۔

 

فاروق درویش نے نہ صرف مجھ سمیت ان تمام حضرات کو گالیاں بکیں بلکہ اسکے علاوہ ہم پر قادیانی ہونے اور قادیانی نواز ہونے کا الزام بھی لگایا اور اسکے علاوہ دھمکیاں بھی دیں، جو کہ اردو بلاگرز گروپ میں انکے کمینٹس وغیرہ میں ابھی بھی موجود ہیں، بات یہ ہے کہ ہم اردو بلاگرز بہت آزاد منش لوگ ہیں، ہم سب کے اپنے اپنے نظریات ہیں، اور بہت سی باتوں پر آپس میں اختلافات بھی ہیں بلکہ خود میرا ڈاکٹر جواد صاحب سے ایک مسئلے پر اختلاف ہوا تھا اور میں نے اس پر ایک پوسٹ لکھی تھی وہ پوسٹ ابھی بھی میرے بلاگ پر موجود ہے، اسکے باوجود میں نے ڈاکٹر صاحب کی ہمیشہ عزت کی اور انہوں نے میرے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا۔ مجھے اس حوالے سے سب سے زیادہ دکھ ڈاکٹر جواد صاحب کی اس پوسٹ سے ہوا تھا جس میں انہوں نے درویش صاحب کی گالیوں پر ہم سے معافی مانگی تھی حالانکہ اس میں انکا کوئی قصور بھی نہیں تھا ۔

 drjawwad mazrat

لیکن یہ رویہ جو فاروق درویش صاحب نے اپنایا ہے جس میں اپنے مخالف لوگوں کو گالیاں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں، جس میں ختم نبوت پر ایمان رکھنے والوں کو قادیانی اور قادیانیت نواز کہا جاتا ہے ، اس رویے کا اردو بلاگرز سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم اردو بلاگرز اس بد تہذیب رویے سے کھل کر براءت کا اظہار کرتے ہیں، اسکے علاوہ یہ بات بھی کھل کر کہتے ہیں کہ ہم میں سے جن لوگوں پر قادیانیت کا الزام لگایا ہے ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم میں سے اکثر کے بلاگ پر قادیانیت کے خلاف پوسٹس موجود ہیں اور اکثر اپنے کمنٹس اور فیس بک سٹیٹس میں قادیانیت پر تنقید کرتے پائے گئے ہیں۔

 

نیز یہ بھی کہ ہم لوگ کسی کی گالیوں، دھونس اور دھمکیوں سے نہین ڈرتے، اور یہ بات بھی کہے دیتے ہیں کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ ایسا برا رویہ رکھنے سے باز نہ آئے تو ہم مل کر انکے خلاف لیگل ایکشن بھی لیں گے۔

فاروق درویش صاحب کی گالیوں اور دھونس دھمکیون کے کچھ نمونے نیچے ملاحظہ فرمائیں۔

farooq1 farooq2 farooq3 farooq4 farooq5

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

قصہ اک بد تہذیب درویش کا پر اب تک 21 تبصرے

  • جواد احمد خان

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 5:28 am

    مجھے بار بار یاسر بھائی کا سوال یاد آرہا ہے کہ کیا ہمارا دین اتنا کمزار ہے کہ وہ فاروق درویش جیسے لچّے ، لفنگوں اور بازاری ذہنیت رکھنے والوں کی مدد کا محتاج ہے۔
    پھر آپکا اسٹائل دیکھیئے یہ ایک مکمل قادیانی اسٹائل ہے۔ گالیاں، محش کلامی۔ مغلظات کا طوفان۔۔۔ نبی کریم ﷺ کے ماننے والے ایسی زبان استعمال نہیں کرتے۔
    کچھ چیزیں فائنلائز کر رہا ہوں پھر اس کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے انشا اللہ۔۔۔۔

  • وقاراعظم

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 6:59 am

    انتہائی گھٹیا اور بدتہذیب شخص ہے درویش اور اس کی نام نہاد شاگرد نامدار، بازاری الفاظ کی ڈکشنری ان پر ختم ہے۔ اور بغیر تحقیق کے انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کا قصور نہیں، بس زنانی آئی ڈی دیکھی نہیں کہ بہن بنانے پہنچ گئے۔

    جواد بھائی کو تو چھ سات سال پہلے سے جانتا ہوں جب وہ مختلف سکیولر، لبرل بلاگز پر اسلام پسندوں کی آواز تھے۔ اس وقت بڑے میاں محلّے کے بچوں سے لڑتے تھے، پھر گھر والوں نے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر انہیں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن لگوادیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، محلّے کے بچے سکون میں ہیں اور انٹرنیٹ کمیونٹی کے شریف النفس لوگ اس کی دشنام طرازیوں کی زد ہے۔

  • Aamir Malik

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 7:38 am

    قتل و غارت گری تک پہنچنے والے اسی طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ بظاہر ان کے کام جیسے کے بلاگ لکھنا یا اپنے پیشے سے منسلک کوئی بھی کام بالکل عام آدمی کی طرح ہی سر انجام دیتے ہیں۔ کہیں سے بھی نہیں لگے گا کہ یہ ایبنارمل ہیں مگر جیسے ہی ان کے مزاج کے خلاف بات ہوگی تو شدید جنونی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر یہ چند روز تک مزید بڑھتی جاتی ہے۔ اسی جنونیت اور شدید ذہنی کیفیت میں ان سے مجرمانہ افعال سرزرد ہوجاتے ہیں۔ یہ رویہ صرف غیروں سے ہی نہیں بلکہ اپنے گھر والوں اور عزیزو اقارب سے بھی ہوتا ہے۔
    ایسے افراد کی سرکوبی اور علاج نہ کیا جائے تو یہ نقصان پہچانے کا باعث بنتے ہیں۔

  • Pasha Malik

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 8:54 am

    میں ان صاحب کو جانتا تو نہیں اور آج پہلی بار آپ کی تحریر کے حوالے سے ان موصوف کے پاکیزہ خیالات پڑھنے کو ملے .. پر میرے اندر سے مسلسل یہ فیلنگ آ رہی ہے کہ مجھے تو یہ فاروق درویش صاحب اپنی تحریر کے انداز سے خود قادیانی لگ رہے ہیں .. مرزا غلام احمد قادیانی اور اسکے چلے چانٹوں کی تحریریں اور اس میں لکھی گالیاں بدزبانی بلکل اسی انداز میں ہوا کرتی ہے ..

  • کاشف

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 9:18 am

    انصاف تو یہ ہوگا کہ آپ اپنی مغلظات بھی لکھ جس کو سن کر آپ کو یہ سب سننا پڑا
    معذرت کے ساتھ آپ نے آدھا سچ ہی بولا ہے

    • انکل ٹام

      Thursday، 31 July 2014 بوقت 5:07 pm

      جناب میں نے دو تین سے زیادہ اس مسئلے پر کمنٹس نہیں کئیے، اور کوئی مغلظات نہیں لکھیں، لہذا میرے پر جھوٹے بہتان لگانا اچھی بات نہیں ہے۔ اگر دکھا سکتے ہیں تو میری کسی کمنٹ یا پوسٹ کا سکرین شاٹ لگا دیں جس میں کوئی ایک غلیظ لفظ لکھا ہو ۔

  • Hamza Awan

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 2:46 pm

    جناب فاروق درویش صاحب کی پوسٹس آئے دن میری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ ان کا ردِ قادیانیت پر کیا ہوا کام قابل تحسین ہے مگر وہ شائد ایک چیزجو کے کسی بھی مباحثہ کی جان ہوتی ہے مطلب اخلاق اس سے کافی دور ہیں۔

  • Hamza waqar

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 6:22 pm

    میں فاروق درویش صاحب سے ملا ہوا ہوں ، وہ اس وقت اچھے لگے تھے لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ انہوں نے اس طرح کی حرکات کیوں شروع کر دیں ۔ ویسے اگر غیر جانبدارانہ فیصلہ کروں تو فاروق درویش صاحب نے جو کیا غلط کیا ہے ۔ انہیں اس پر آپ سے معافی مانگنی چاہیے

  • Hamza waqar

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 6:25 pm

    فاروق درویش سچی بات لکھتے ہیں انکا یہ روپ پہلی بار دیکھا

  • Zeeshan Sahab

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 10:46 pm

    Samajh nahi aata tum log Pakistani ho ke apas me lartay ho.. khair abhi tak kissi ne mukka nahi maara.. baatoon ke shair lagtay hain saaray….
    Aik Aik ko dekh lon gaa agar kissi ne batamizi ki…
    Ramazan khatam to Shetan Azaad…
    Aur kon kahta hay ke Firoon mar gaya…
    woh to zinda hay Politicians ki shakal me… hamari tehreroon ki shakal me… aur kaafi shakaloon me..
    Maaf karo Baba..
    Dhool wala pese Chand raat ko lay jata hay … lekin uss ko kahta kon hay ke sehrii me DHool zor zor se peetay..

  • farooqdarwaish777farwq drwix

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 10:57 pm

    لعنت اللہ علی الکاذبین ۔۔۔۔ صرف ایک نمونہ دے رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=744456032277429&set=a.104604692929236.3741.100001391178606&type=1&theater
    ایک مسلم خاتون کے بارے مغلظات اور فحش کلامی ہی نہیں بلکہ ٹرپل ایکس ڈگری کی بازری گفتگو کے وہ میسجز بھی آویزاں کیجئے جو ان عزت دار اور شرفا نے مختلف پوسٹوں پر درج کئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جھوٹوں پر دنیا میں بھی لعنت خالق ق مخلوق ہے اور محشر میں بھی مونہ کالا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    والسلام

    • انکل ٹام

      Thursday، 31 July 2014 بوقت 11:13 pm

      فاروق درویش صاحب جھوٹے تو آپ خود ہیں جو ہر دوسرے قادیانی مخالف مسلمان پر قادیانی نواز ہونے کے فتوئے لگا کر لوگوں کو انکے خلاف مشتعل کر رہے ہیں۔ لہذا آپ نے خود ہی خود پر لعنت کر کے ہمیں اس کام سے بچا لیا، دوسرا یہ جو لنک دیا ہے تو ہمیں بلاک بھی نہیں کرنا تھا میں نے آپکی پروفائل پر صرف دو وضاحتی کمنٹ کئیے تھے اور بڑے تہذیب یافتہ انداز میں کئے تھے، لیکن آپ اتنے بزدل ثابت ہوئے کہ آپ نے نہ صرف انکو ڈیلیٹ کیا بلکہ مجھے بلاک بھی کر دیا اور اب لنک دے رہے ہیں۔ اگر آپ اتنے ہی سچے ہوتے جتنا آپ خود کو دنیا کے سامنے دکھاتے ہیں تو آپکو مجھے یا کسی اور کو بلاک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
      اور ہم لوگ نہ تو وہ ٹھرکی ہیں جو کسی لڑکی کی بات سنی نی اور اسی وقت پٹ ہو گئے اور نہ ہی وہ بیوقوف ہیں جو یہ نہ سمجھ سکیں کہ ان محترم مسلم خواتین کی آئی ڈیوں کے پیچھے بڑی بڑی مونچھوں والے درویش صاحبان تشریف فرما ہوتے ہیں۔ یہ ڈرامے وہاں جا کر کیا کریں جہاں آپکے چیلے چانٹے آپکی اعلیٰ پائے کی گالیوں پر بھی واہ واہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ دوسرا کمنٹ میں نے آپکا اسی لئے اپروو نہیں کیا کیونکہ اسکا موجودہ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہذا جن امریکیوں کے پراپگینڈے پر رونا پیٹنا آپنے مچایا ہوتا ہے انہی امریکیوں والا پراپگینڈا نہ کریں ہمارے سامنے۔

    • Ahmed Ali

      Thursday، 31 July 2014 بوقت 9:58 am

      فاروق مویش تم کو دوسروں کی باتیں بہت نظر آتی۔جعلی خاتون جسے تم مسلم خاتون کہتے ہو۔اس کی بازاری زبان نظر نہیں آتی۔یہ جو نمونہ تم لگا رہے۔یہ تمہاری اور تمہاری بازاری زبان بولنے والی بیٹی سارا غزل کی بازاری زبان کے بعد ہوا۔آدھی بات کیوں کرتا ہے۔سب کو یہ بھی بتا تو نے اور تیری بیٹی نے پہلے گندی زبان بولی تب بلاگر نے سخت رویہ اپنائا۔تیری اور تیری بیٹی کی بازاری زبان کا نمونہ یہ ہے
      https://www.facebook.com/photo.php?fbid=901656069848873

  • فاروق درویش

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 1:26 am

    مجھے کہیں سے بھی کوئی ایک کومنٹ ایسا دکھا دیا جائے جس میں میں نے کسی مسلمان کو قادیانی قرار دیا ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بلاگنگ اور سوشل میڈیا ہی نہیں صحافت بھی چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیلنج ہے کھلا چیلنج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاں قادیانیوں کے دوستوں کو بھی قادیانیوں جیسا کافر ضرور کہتا ھوں کہ یہی قرآن کا فیصلہ ہے کہ کافر کا دوست بھی کافروں کے ساتھ اٹھایا جائے گ۔۔۔

    • انکل ٹام

      Thursday، 31 July 2014 بوقت 2:17 am

      درویش صاحب، آپکی پہلی منافقت تو یہ ہے کہ آپ نے اپنی بلاگپوسٹ میں میری جس فیسبکی پوسٹ پر کمنٹس لگائے ہیں وہ پوسٹ کا سکرین شات نہیں دکھایا، اور نہ ہی وہ کمنٹس میں میں نے آپکی سیدہ سارا غزل والی آئی ڈی پر کئے تھے دکھائے۔ اگر آپ اتنے ہی سچے ہوتے تو منافقت کر کے آدھی چھپانا آدھی دکھانا والی حرکت نہ کرتے۔
      دوسرا اس سے پہلے کہ آپکو ثبوت دئے جائیں آپ پہلے یہ بتائیں کہ آپ مجھے، اونی چاں یاسر خوامخواہ جاپانی، ڈاکڑ راجہ افتخار صاحب اٹلی والے، ڈاکڑ جواد صاحب،اور جعفر حسین کو کیا سمجھتے ہیں ؟ آپ تو بغیر کسی ثبوت وارث صاحب کے اوپر سائیں اور روشنی پیج چلانے کے الزامات لگاتے رہتے ہیں، حالانکہ خود میں نے اپنے والی پر اس بارے پوسٹ بنا کر ان سے پوچھا تھا اور انہوں نے وہاں سب کے سامنے پبلکلی کنفرم کیا تھا کہ انکا ان صفحات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اب چونکہ ثابت ہو گیا ہے کہ آپ ہم مسلمانوں کو قادیانی اور قادیانی کے دوست کافر سمجھتے ہیں لہذا یہاں سب کو تاریخ دیں جسکے بعد سے انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور آپ کے بلاگز غائب ہو جائیں گے ۔

      • جواد احمد خان

        Thursday، 31 July 2014 بوقت 2:48 am

        قاروق درویش،
        کیا بہتان بازی اور تہمتیں لگانے کے علاوہ بھی تمہیں کوئی کام آتا ہے؟
        ہماری قادیانیوں سے دوستی کا ثبوت دو ورنہ اپنا بدبودار منہ بند کرلو ہمیشہ کے لیے۔۔۔

    • Ahmed Ali

      Thursday، 31 July 2014 بوقت 9:57 am

      فاروق یہ دیکھ تو نے مجھے قادیانی کہا۔حالانکے میں گواہی دیتا ہوں محمد ﷺ آخری نبی ہیں ان کے بعد جس نے بھی نبوت کا دعوا کیا وہ جھوٹا ہے۔ پھر تو نے مجھے قادیانیوں کے نام سے کیوں پکارا۔اب تجھ میں ذرہ برابر غیرت ہے تو آپ اپنی بات پر قائم رہ۔بلاگنگ کے ساتھ سوشل میڈیا اور صحافت چھوڑ۔مگر تو نہیں چھوڑے گا۔تو مویش ہے۔اپنی بات پر قائم نہیں رہے۔ہمت ہے تو غیرت دیکھا
      https://www.facebook.com/photo.php?fbid=901659976515149

  • یاسر خوامخواہ جاپانی

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 2:45 am

    جی جناب چیلنج کر رہا ہے۔ جی چیلنج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب واقعی اس پر مجھے ترس آرہا ہے۔
    ******************
    مویش کا چیلنج۔۔
    مجھے کہیں سے بھی کوئی ایک کومنٹ ایسا دکھا دیا جائے جس میں میں نے
    کسی مسلمان کو قادیانی قرار دیا ہو؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں بلاگنگ اور سوشل میڈیا ہی نہیں صحافت بھی چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیلنج ہے کھلا چیلنج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاں قادیانیوں کے دوستوں کو بھی قادیانیوں جیسا کافر ضرور کہتا ھوں کہ یہی قرآن کا فیصلہ ہے کہ کافر کا دوست بھی کافروں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔۔۔
    *******************************************************************************
    ہمارا ڈرتے ڈرتے کپکپاتی ٹانگوں سے ایک جواب و سوال۔
    **************************
    او ذہنی مریض!!!!!!۔
    تو ایسی “ٹون” ہی نہیں ہے کہ کسی کی بات کو مان جائے۔
    پھٹے سائلنسر والی سی این جی پر چلنے والی چنگچی کی طرح تو جسطرف سے گذرتا ہےبد بو ہی بد بو کرتا جاتا ہے۔۔اب مجھے بتا کہ اگر تو قادیانیوں اور قادیانی دوست میں فرق نہیں سمجھتا تو
    اے خبیث اے دیوث۔۔جہنمی انسان۔۔۔
    ہمیں کس بنیاد پر تو قادیانی دوست قادیانیوں کا ایجنٹ بتاتا پھر رہا ہے؟
    اس کا ثبوت اور وضاحت کردے اور بلاگنگ چھوڑ کر ٹٹی میں مر جا۔۔۔

  • فاروق درویش

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 4:16 am

    جو شخص ( جواد احمد خان ) قادیانیوں سے دوستی کیخلاف پوسٹ پر از خود آ اسے کر تنقید کا نشانہ بنائے اس سے ایک عام فہم شخص بھی کیا معانی اخذ کرے گا؟ جو شخص کسی انٹی قادیانی پوسٹ کو شدت پسندی قرار دے اس شخص کو عاشق رسول کہنے والوں کو بھی روش حشر جواب دہ ہونا ہے ۔۔۔۔ تم جیسے بناؤٹی عاشق رسول کیلئے اتنا ہی کافی ہے، تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی فحش کلامی کی سطح وہی ہے جو رفیع رضا اور جمیل الرحمن قادیانی جیسے گستاخین قرآن و رسالت کی ہے ۔۔۔۔اور یہ بات حرف آخر ہے ۔۔۔۔۔ اوئے قانون کے ماما جی ۔۔۔۔ مجھے سارے قوانین آتے ہیں ۔۔۔۔ غلام مصطفے ہوں اور اس وطن کا سچا محب ہوں ۔۔۔۔ دین اور وطن کے لئے ہزار بار جان قربان ہے ۔۔۔۔۔ یاد رکھ تمہارے پورے فحش کلام گروہ کی فحش کلامی اور اسلام دوست لوگوں کو شدت پسند قرار دینے کی تمام تر گفتگو میرے پاس موجود ہے ۔۔۔۔ جہاں تک سارا غزل کے فیک آئی ڈی ہونے کا گھٹیا الزام ہے وہ بھی قادیانی برانڈ الزام ہے اور تمام قادیانی ھضرات اس الزام کے بعد پورے فیس بک پر ان چھ انتہائی معزز گروپ ایڈمنز سمیت بیسیوں معززین کی حلفا قسماً ! قراناً گواہیوں اور شہادتوں پر ذلیل و رسوا ہو چکے ہیں جن کی ادبی اور سوشل حلقوں میں واقعی عزت ہے اور جو تم لوگوں جیسے مسخرے نہیں ۔۔۔۔ اردو ادب کے اہم ترین نام اور گروپ ایڈمنز برادر ندیم الرحمن، برادر الیاس بابر اعوان، برادر ملک ناصر اعوان، محمد خاور جیسے کتنے لوگ ہیں جو ابھی تک سارا سے فون پر رابطے میں رہے لیکن کسی صاحب کی طرف سے فون ڈسکلوز ہونے پر کینیڈا سے رفیعرضاکی فحش کالز کے بعد سلسلہ بند ہوا ۔۔۔۔ یہ لوگ آج بھی فیس بک پر ہی موجود ہیں ۔۔۔۔۔ ان لوگوں سے قرآن پر حلف لے کر پوچھا جائے کہ کیا وہ سارا غزل سے فونز پر رابطے میں رہے؟ ؟ ۔۔۔ وہ پاکستان کی سب سے اچھی شاعرہ ہے، میں اتنا پاگل نہیں کہ اس جیسا بے مثال کلام ایک فیک آئی ڈی لیئے ضائع کروں جس کی ہر سخن ور آرزو کرتا ہے ۔۔ اس کے نام پر لکھا گیا کلام میں خود اپنے پروفائیل میں کیوں نہ رکھوں ؟ ۔ ۔ جو لوگ شاعری کے اسرار و رموز سے واقف ہیں وہ اس کی اور میری شاعری کے اسلوب میں واضع فرق بیان کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ میری شاعری، میری بنت اور موضوعات میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔جو تم جیسے جہلا کبھی نہ سمجھ پائیں گے ۔۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ قادیانیوں کو اس کی اعلی پایہ شاعری سے حسد اور تم لوگوں کو اس کی انٹی قادیانی تحریک سے بغض ہے۔۔۔ اس کے دو بھائی سعودیہ میں موجود ہیں جلد تمہارے گریبان تک پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔۔ جو کرتا ہے سو بھرتا ہے ۔۔۔ جاپانی جناور جیسوں کو بلاگرز کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے آپ سب لوگوں کو ۔۔۔۔ اس شخص سے ہمکلامی کا مطلب تعفن ِ خباثت کی سزا بھگتنے کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لعنت اللہ علی الکاذبین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • فاروق درویش

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 4:17 am

    یہ کومنٹ میں نے جواد احمد خان کو لکھا ، ضروری سمجھا کہ آپ کے بلاگ کے قارئین کو بھیاصل حقائق کا علم ہو سو یہاں بھی پوسٹ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد کوئی اور مکالمہ ضروری نہیں سمجھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ حافظ

  • Kashif Naseer (@smkashif)

    Thursday، 31 July 2014 بوقت 2:56 pm

    فاروق درویش صاحب فتنہ زید میں نے دو سال قبل پہلی بار انہیں اس وقت دیکها،پڑها اور سنا جب وہ اردو بلاگر گروپ پر گالم گلوچ کرتے پائے گئے تهے. انکے ایک نفسیاتی مریض ہونے کا مجهے اسی وقت اندازہ ہوگیا تها. تین فیس بک آئی ڈی، پهر بلاگ اور فیس بک پیج پر غیراخلاقی تصاویر، خواتین کا استعمال، ایسے الفاظ کا بار بار استعمال جن کا تعلق جنسی معاملات سے ہو. وغیرہ وغیرہ.

    فاروق درویش صاحب خود کو ایک اسلام پسند شخص قرار دیتے ہیں میرا ان سے سوال ہے کہ انکا سیدہ سارا غزل سے کیا تعلق ہے؟ کیا وہ انکی کوئی محرم ہیں، اگر نہیں ہے تو ایک نامحرم لڑکی سے انکا کیا تعلق؟ پهر سید سارا غزل نے اپنی پروفائل پر اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو دوسرے کے اسلام کا ٹهیکہ لینے والی خاتون خود کیوں حجاب نہیں کرتیں. تیسرا آپ نے کہا کہ محترمہ شاعرہ ہیں تو کیا ایک مسلمان عورت کا رومانی شاعری کرنا اور نامحرم ادیبوں سے اصلاح لینا شریعت میں جائز ہے؟ آپ باربار کہتے ہیں کہ آپ عاشق رسول ہیں تو بتائیں کہ آپ شرعی ڈاڑهی کیوں نہیں رکهتے؟ پانچواں ہم کیوں آپکو ایک نفسیاتی مریض اور گمراہ نہ سمجهیں کہ آپ کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں، کسی مکتب فکر یا دینی تحریک جس سے آپکا باقاعدہ تعلق ہو، دین کا کام بغیر نظم اجتماعی میں رہے کیسے ممکن ہے؟ ا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *