چنگیز خان سے مار کیوں پڑتی ہے؟

موضوع: تاریخیات, خیالیات, رونا پیٹنا, سماجیات, سمجھو اور سمجھاو, سیاسیات, سیلف میڈ علامہ, کوئی موضوع نہیں, معاشریات, نصیحت و نصائح

ایک عالم بننے کے لئے مدرسے میں سات سال لگانے پڑتے ہیں اور مفتی بننے کے لئے ایک دو سال اور لگانے پڑه جاتے ہیں پهر کئی سال مدرسے میں حدیث کی کتابیں پڑهانے کے بعد بندا شیخ الحدیث بنتا ہے اور ان حدیث کی کتابوں کی مدرسی تک پہنچنے کے لئے پہلے کئی سال دیگر کتابوں کی تدریس کرنی پڑتی ہے اس ساری تفصیل کو پڑه کر آپ اندازہ لگا لیں کہ شیخ الاسلام بننے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہوں گے، اور ہر عالم کا ایک سلسلہ حدیث ہوتا ہے جسکو عمومی طور پر سند بهی کہا جاتا ہے جو بالترتیب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے-

اب پاکستان میں ایک “خود ساختہ شیخ الاسلام” صاحب انقلاب کا تازیانہ بجاتے ہوئے نازل ہوئے ہیں، جنکو اوپر بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں میں تو کوئی عالم تک ماننے کو تیار نہیں چاجائیکہ شیخ الاسلام، شیخ الاسلام صاحب کہتے ہیں وہ انقلاب لائیں گے، اور انقلاب جمہوریت میں رہتے ہوئے آئے گا، اگر اس بات کو مان لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہین ہے اسی لئے شیخ السلام صاحب کو جمہوریت خے تحت ہی انقلاب لانا ہے، اور ایسے میں ہمیں ان شیخ صاحب پر لعنت بهیج کر سائیڈ پر ہو جانا پڑے گا اور اگر یہ مان لیا جائے کہ شیخ صاحب کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو پهر شیخ صاحب سے پوچها جائے کہ آپ اسلام نافظ کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے ؟

دو دن پہلے ان نام نہاد شیخ الاسلام کے بارے عطا الحق قاسمی نے ان صاحب کا مذاق اڑایا، جس قسم کی ان شیخ الاسلام صاحب کی حرکتیں ہیں ویسا ہی انکا مذاق ہی بننا تها اور انکی وجہ سے ہم جیسے نام کے داڑهی والے مسلمانوں کا بهی مذاق اڑتا ہے، کوئی بندا پوچه لے کہ سناو فیر مولوی صیب آپکے شیخ الاسلام پاکستان میں کیا گل کهلا رہے ہیں تو ہم جیسا بندا بغلیں جهانکنے لگتا ہے، اسکو صحیح کہہ نہیں سکتے اور غلط کہنے کی جرات کر لیں تو فرقہ واریت کے طعنے الگ-

اس بات پر پچهلے دن اپنے ایک محترم بزرگ سے کچه گفتگو ہو گئی انکی بات کو مفہوم کچه یوں تها کہ جو کچه بهی ہے ہمیں عطا الحق قاسمی جیسے لبرل لوگوں جو شراب کی محفلوں میں بهی بیٹه جاتے ہیں سے علامہ صاحب کا مذاق نہیں کرنا چاہئیے کہ جو عالم بهی ہیں اور ایک دنیا انکی مرید بهی ہے، میرے خیال سے یہ ہی ایک وجہ ہے کہ علامہ صاحب کے علامہ پن پر کهلے عام بولا جائے اور کهل کر تنقید کی جائے کیونکہ ایک جاہل بڑا طبقہ انکا پیرو ہے اور انکے حکم پر کٹ کهانے کو بهی تیار ہو جاتا ہے، یہ ایک عوامی جہالت اور بد اخلاقی ہے اور عوامی جہالت اخلاقی دیوالیہ ایسی چیز ہے جو قوموں کو چنگیز خان کے کوڑے کے سامنے کهڑا کر دیتی ہے، اس چیز پر چهوٹے بهائی کے دوست سے پچهلے دن گفتگو ہوئی-

wpid-genghis_khan_by_zeynowar.jpg
چهوٹا بهائی اپنے ایک دوست کو دکان پر پیزا کهلانے لے آیا، وہ ہفتے کے ایک ایسے دن میں ایسے وقت پر آیا جب علاقے کے سارے پاکستانیوں کو پیزا یاد آجاتا ہے، شاید تنخواہ ملنے کی وجہ سے، اس نے لوگوں کی ریل پیل ہوتی دیکهی تو پوچهنے لگا کہ یار اس بزنس میں کتنا پرافٹ ہوتا ہے، میں نے اسکو کہا کہ یار دیکهو لوگوں کی ریل پیل تو بہت ہے لیکن یہ اسی وقت ہے اسکے علاوہ سارے گاہک دیسی ہیں، اور ابهی کل کی ہی کہانی سنو، ایک انکل آئے، پیزے میں ایکسٹرا ٹاپنگ ڈلوائی، ایکسٹرا ٹاپنگ کے پیسے تو چهوڑو پیزے کے ہی پیسے پورے نی دئیے اور ساته کیڑے بهی نکال کر گئے، کیڑے وہ خیر نہ نکالتے لیکن میں نے پورے پیسوں کا مطالبہ کر لیا تها- اس نے پهر مجه سے بڑی معصومیت سے پوچها کہ یار ہم دیسی ایسے کیوں ہوتے ہیں؟

میں نے اسکو کہا کہ یار ایک چیز ہے کہ یہاں دیسی لوگ غریب ہیں، لیکن ان حرکتوں کہ وجہ غربت نہیں ہے کیونکہ جو امیر ہیں انکی بهی یہ ہی حرکتیں ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم کا اخلاقی دیوالیہ نکل گیا ہے، ہم لوگوں نے کمینگی کو سٹینڈرڈ بنا لیا ہے، یہ لوگ دوسرے کا حق مارنا حلال سمجهتے ہیں، یہ لوگ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے، یہ ڈرتے ہیں کہ اگر غلطی تسلیم کر لی تو اپنی گندی عادتوں کو چهوڑنا پڑ جائے گا، یہ لوگ احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں، یہ گوری چمڑی دیکهتے ہی پیروں میں بچه جاتے ہیں، اور اپنے جیسے لوگوں کو حقیر سمجهتے ہیں ان سے بدتمیزی پر اتر آتے ہیں، یہ لوگ دزبان ہیں، انکو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے یہ بات بات پر گالیاں بکتے ہیں، ان لوگوں میں برداشت نہیں ہے یہ لوگ زرا زرا سے اختلاف پر مرنے مارنے کو تل جاتے ہیں- اور جب قوم اس حالت کو پہنچ جائے تو یا پهر ایک خونی انقلاب چاہئیے ہوتا ہے جیسا ماوزے تنگ انقلاب لے کر آیا تها کہ جس نے بهی زرا سی چوں چاں کی اسکو گولی سے اڑوا دیا اور اس طرح قوم سیدهی ہوتی ہے اور اگر قوم اس سے بهی زیادہ مردہ ہو جائے کہ یا تو اس میں کوئی ماوزے تنگ پیدا نہ ہو یا وہ اس ماوزے تنگ کی بات کو جوتے کی نوک پر رکه کر اڑا دے تو اللہ تعالی اس قوم پر چنگیز خان نازل کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے –

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾
اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی [۸]
فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾
پھر جب آیا پہلا وعدہ بھیجے ہم نے تم پر اپنے بندے [۹] سخت لڑائی والے پھر پھیل پڑے شہروں کے بیچ اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا [۱۰]
ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾
پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری [۱۱] ان پر اور قوت دی تم کو مال سے اور بیٹوں سے اور اس سے زیادہ کر دیا تمہارا لشکر
اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾
اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لئے [۱۲] پھر جب پہنچا وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کر دیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسےگھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کر دیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی [۱۳]
عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یَّرۡحَمَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ عُدۡتُّمۡ عُدۡنَا ۘ وَ جَعَلۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ حَصِیۡرًا ﴿۸﴾
بعید نہیں تمہارے رب سے کہ رحم کرے تم پر اور اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے اور کیا ہے ہم نے دوزخ کو کافروں کا قید خانہ [۱۴]

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

چنگیز خان سے مار کیوں پڑتی ہے؟ پر اب تک 7 تبصرے

  • Iftikhar Ajmal Bhopal

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 4:20 am

    جناب مجھ جیسا 2 جماعت پاس ناتجربہ کار آدمی اتنی مُشکل باتیں نہیں سمجھ سکتا ۔ ہاں مجھے یہ معلوم ہے کہ میں جس مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں اُس کے خطیب مُفتی ہیں ۔ کئی سال گذرے میں نے اُن کی تعلیم پوچھی ۔ بولے ”16 سال جس میں قرآن مع ترجمہ تفسیر ۔ حدیث ۔ اصولِ فقہ ۔ فقہ ۔ تاریخِ اسلام ۔ اسلامی نظامِ حکومت و انصاف شامل ہیں“۔
    طاہر القادری نے قرآن کی تعلیم اوکاڑہ کے کسی مدرسہ یا مسجد میں حاصل کی ۔ لاہور سُنا ہے بائیسائکل پر پہنچے اور میاں شریف کے پاس جا کر سرپرستی کی درخواست کی ۔ اُنہوں نے اپنی مسجد مین بھرتی کر لیا ۔ر اُس کی کفالت کی اور ساتھ تعلیم دلوائی جب بی اے ایل ایل بی کر لیا تو کالج میں لیکچرر کی ملازمت دلوائی ۔ رہنے کیلئے مکان اور پھر مدرسہ منہاج القرآن بنوا دیا ۔ شاید 1990ء میں زیادہ چوڑے یا پنجابی والے چَوڑ ہوئے تو میاں شریف نے فارغ کر کے اعانت بند کر دی ۔ اس پر سیخ پا ہو کر میاں شریف کے خاندان پر بہتان باندھنے شروع کئے جو آج تک جاری ہیں
    میں 1991ء تک ان کا مداح تھا ۔ واہ چھاؤنی میں سیاسی جلسے کرنے کی ممانعت ہے ۔ طاہرالقادری سیرت النبی پر تقریر کے بہانے آئے اور واہ چھاؤنی کے مختلف حصوں میں ووٹ لینے کیلئے 2 عدد جلسے کر ڈالے ۔ لوگ بڑی مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد طاہرالقادری کی تقریر سُننے کیلئے جمع تھے ۔ طاہرالقادری جلسوں سے فارغ ہو کر عشاء کی نماز کے بھی بعد پہنچے ۔ اگلے دن صبح حقیقت معلوم ہوئی تو سٹیشن کمانڈر نے واہ چھاؤنی میں طاہرالقادری کے داخلے پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگا دی
    طاہرالقادری کو جھوٹے بڑے بڑے دعوے کرنے کا عارضہ لاحق ہے جو آپ نے موجودہ انقلاب مارچ میں بھی سُنے ہوں گے
    http://www.theajmals.com

  • Sheikho

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 7:14 am

    بہت اچھی اور معلوماتی تحریر
    یہ انسان سند یافتہ جھوٹا ہے۔ ایسے فراڈ ، منافق اور عالمی جھوٹے کی ہر فورم پر لوگوں کو آگاہی دینی چاہئے ۔

  • Sarwat AJ

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 10:25 am

    صاحب بلاگ نے حقیقت اور کڑوا سچ لکها ہے…..
    انکل بهوپال صاحب نے اپنا لائیو تجربہ بیان کیا جس کا شکریہ

  • Sarwat AJ

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 4:37 pm

    کڑوا سچ لکها ہے……..اللہ سے اصلاح کی امید اور دعا ہے……..

  • Dr Raja Iftikhar Khan

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 4:38 pm

    یہ مسلمہ کذاب ہے، اورہزاروں کے مجمعے میں جھوٹ بولتا ہے، اس سے دور ہی رہنا لازم ہے، اللہ اسکے پیروکاروں پر رحم کرے

  • Sarwat AJ

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 4:42 pm

    حقیقت بہت تلخ ہے

  • Sarwat AJ

    Saturday، 16 August 2014 بوقت 10:46 am

    اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم کا اخلاقی دیوالیہ نکل گیا ہے، ہم لوگوں نے کمینگی کو سٹینڈرڈ بنا لیا ہے، یہ لوگ دوسرے کا حق مارنا حلال سمجهتے ہیں، یہ لوگ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے

Leave a Reply to Sarwat AJ Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *