عمرانی انقلاب میں زرداری کی آمد

موضوع: سیاسیات

اصل میں عمران جو کہہ را ہے وہ غلط نہیں ہے، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ کرپشن نہ ہو، عوام کو بجلی اور دیگر سہولیات ملیں، نااہل لوگوں کو ذمہ دار عہدوں سے ہٹایا جائے، بندر کو ریوڑیاں بانٹنے کی طرح حکومتی عہدے اور وزارتیں رشتے داروں اور قرابت داروں میں نہ بانٹی جائیں۔

لیکن جو طریقہ کار اس کام کے لئے عمران نے اختیار کر لیا ہے وہ غلط ہے، اور رہی سہی کثر انکل قادری نے انہی دنوں اسی جگہ اپنا ٹوپی ڈرامہ چلا کر نکال دی ہے۔ اسکو چاہئیے تھا کہ الیکشن میں دھاندھلی پر ان تمام لوگوں کو ساتھ ملاتا جو اسکا شکار ہوئے ہیں، اسکو جھنگ سے مولانا احمد لدھانوی، اور کرک سے شاہ عبدالعزیز جیسے مضبوط گروپوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک مضبوط پریشر گروپ بنا لینا چاہئیے تھا۔ اور اصلاحات کو عملی طور پر نافظ کروانے اور جن جن جگہ الیکشن میں دھاندھلی ثابت ہوئی ہے وہاں ری الیکشن کروانے کی کوشش کرتا۔

ایسا نہ کرنے کی واحد وجہ میری سمجھ میں یہ ہی آتی ہے کہ عمران اپنے ساتھ کسی مذہبی نظریے کے حامل گروہ کو ملانا نہیں چاہتا، وہ اپنی ایک الگ لبرل پارٹی والی شناخت قائم رکھنا چاہتا ہے، اور پیچھے جہاں سے اسکو چابی مل رہی ہے وہ لوگ بھی ان مذہبی گروہوں کو الیکشن ہروانے میں شامل رہے ہیں اور خود وہ بھی نہیں چاہئیں گے کہ یہ عمران کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد قائم کریں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران یہ بات سمجھ چکا ہے کہ اب اس ملک میں اسلامی نظام نافظ ہو ہی نہیں سکتا، جو کرنے کی کوشش کرے گا اسکا بھی تیا پانچا ہو جائے گااسی لئے اس نے اس چیز کو بلکل سائیڈ پر رکھ دیا ہے اور انتظامی اصلاحات پر کام شروع کر دیاکہ اگر اسلام نافظ نہیں ہو سکتا تو کم سے کم انتظامی اصلاحات تو ہوکرپٹ لوگوں کو وزارت وغیرہ نہ ملے

میرے خیال سے  ن لیگ اور دیگر پارٹیوں کے حامی جو لوگ عمران پر یہ اعتراض کرتے ہیں ناچ گانے کا وہ غلط اعتراض کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہی سارے ڈرامے باقی پارٹیوں کے بھی ہیں، جب نواز الیکشن جیتا تھا تب میں نے لوگوں سے پوچھا تھا کہ یہ جو جیت کی خوشی میں ناچ گا کر جشن ہو رہا ہے اس پر کتنے نفلوں کا ثواب ہے ؟

اس سارے قضئیے سے عمران خان کے ساتھ تو جو کچھ ہونا تھا سو ہوا، اسکی جو رپیوٹیشن خراب ہونی تھی وہ ہوئی، لیکن ن لیگ نے اپنے زرداری کو مدد کے لئے بلا کر اپنے آپ کو مکمل طور پر نااہل ثابت کر دیا ہے، اگر سیاسی کیریر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نواز و شہباز کے مقابلے میں زرداری کل کا بچہ ہے، لیکن اس نے اپنی پریس کانفرنس میں خود کو ڈاکٹر کہہ کر ثابت کر دیا کہ صحیح سیاستدان بننے کے لئے ن لیگیوں کو ابھی دس سال زرداری کی شاگردی کرنی پڑے گی ۔ میرے خیال سے نواز و شہباز کو اب سیاہ ست وغیرہ چھوڑ کر اپنی ملوں اور شوگر کی فیکٹریوں پر ہی  مکمل دھیان دینا چاہئیے ۔

ماہر سیاسی تجزیہ نگار انکل ٹام

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *