زندگی کی خوشیاں اور بے حسی

موضوع: کوئی موضوع نہیں

یار یہ کتنے افسوس کی بات ہے میں نے تاسف سے سر ہلایا تها، اور تمہاری ہنسی نہیں رک رہی، شمس نے اپنی ہنسی روکی کچه کہنے کو منہ کهولا اور کچه کہے بغیر پهر ہنسنے لگا اور میرا منہ پهر بن گیا، یہ بلکل بهی مزاحیہ بات نہیں ہے شمس، مجهے اسکے ایسے ہنسنے سے اب الجهن ہونے لگی تهی، یہ بہت مزاحیہ بات ہے اگر تم اسکو محسوس نہ کرو تو شمس نے ہنسی روک کر نہایت سیریس انداز سے کہا-
کیوں؟ کیا تمہارے نزدیک دوسروں کے دکه درد کو محسوس نہیں کرنا چاہئیے؟ کیا دوسروں کے دکه کو اپنا دکه نہیں سمجهنا چاہئیے ؟
نہیں بلکل نہیں، شمس کے چہرے پر کافی گہری سنجیدگی چها گئی تهی، ہم کیوں محسوس کریں دوسروں کے غم کو؟ وہ خود ہی کافی ہیں-
تم جیسے لوگ خود غرض ہوتے ہیں شمس، بے شک تم میرے دوست ہو لیکن تم ایک خود غرض انسان ہو، اور تم جیسے خود غرض لوگ شاید کتے سے بهی بدتر ہوتے ہیں کتا بهی دوسروں کو تکلیف میں دیکه کر پریشان ہوتا ہے انکی مدد کو دوڑتا ہے لیکن تم لوگ کتے سے بهی بدتر جانور ہو جو دوسروں کی تکلیف پر ہنستے ہو-

شمس نے بہت پرسکون انداز سے میری بات سنی پهر مسکراتے ہوئے کہنے لگا ہاں ہم جانور ہیں، انسان ہے ہی کیا، حیوان ناطق ایک جانور ہی تو ہے، اور ہم خود غرض ہی ٹهیک ہیں خوش و خرم زندگی گزارنے کے لئےnbsp; یہ خود گرزی بہت ضروری ہے-

دیکه ٹامے جیسے وہ کہتے ہیں نہ بڑے بوڑهے کے زیادہ سوچنے سے انسان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے ایسے ہی زیادہ محسوس کرنے سے انسان کا دل خراب ہو جاتا ہے، اور خراب دماغ تو کبهی ٹهیک ہو بهی جاتا ہے لیکن دل اگر ایک دفعہ خراب ہو جائے تو پهر کبهی ٹهیک نہیں ہوتا، انسان ساری عمر خوش نہیں رہ سکتا، اسکو چهوٹی چهوٹی بات بهی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے- اور تو، تو سمجهتا ہے یہ تیرے دل میں دوسروں کے لئے محبت پیدا کرے گی، بہت غلط سوچتا ہے تو ٹامے، یہ چیز تیرے اندر بہت خاموشی سے تیرےnbsp; اندر نفرت کے انگارے جلا دے گی، تجهے دنیا کا ہر شخص برا لگنے لگے گا تو خود بهی خوش نہیں رہ سکے گا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بهی خوش نہیں ہونے دے گا- اچها چل چهوڑ اسے مجهے اینڈنگ بتا-

شمس نے موضوع ایسے تبدیل کیا جیسے اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں تهی-
یار اینڈنگ کیا ہونی تهی اسنے دو دن پہلے ہی شہیر کو گفٹ دیا تها اور شہیر کہہ را تها کافی مہنگی شرٹ تهی، اور اگلے ہی دن اسکو لات بهی مار دی، میں بهی وہیں تها اور شہیر کو تو کچه نی کہا، لیکن جاتے جاتے مجهے کہہ گئی کہ مجهے تم سے سخت نفرت ہے –

اب اس میں میرا کیا قصور تها؟ میں نے تو اسکا بهلا سوچ کر ہی کیا تها جو کچه کیا تها، اور وہ شہیر وہ بهی چهوٹے بچوں کی طرح رو را تها-

تجهے پتا اس نے یہ سب کیوں کیا؟ شمس نے کافی کا کپ سائیڈ پر رکه کر پوچها-

دماغ خراب ہوا ہو گا اسکا، حالانکہ شہیر

نہیں نہیں، دماغ تو تیرا خراب تها جو تو نے یہ حرکت کی اور اس نے تیرے سے بدلا اتار لیا، اب سمجها میں کیوں ہنس رہا تها

اس بات نے مجهے گہری سوچ میں ڈال دیا،

یار اب تم یہ بات شہیر کو نہ بتانا میں نے شمس سے التجا کی

کیوں ؟

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ بهی مجه سے نفرت کرے مجه سے نفرت کرنے والے پہلے سے ہی بہت ہیں-

فلاسفر صیب جو کافی دیر سے بہت خاموشی سے ہماری حرکت سن رہے تهے اچانک اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے گویا ہوئے ” یار مجهے تمہاری ساری باتیں تو سمجه نہیں آئیں لیکن بہت ہی نازک صورت حال ہے”-nbsp;

یہ کہانی یوں یاد آئی جب پچهلے دن شمس سے ملاقات ہو گئی مجهے کہنے لگا کہ تو بڑی جلدی ضرورت اور وقت سے پہلے بڑا ہو گیا ہے اور اس چیز نے مجهے بہت ڈس اپوائنٹ کیا ابهی بهی وقت ہے اپنے ساته ساته دوسروں پر بهی ہنسنا سیکه لے —– میں نے کہا یار کیا کروں عادت سے مجبور ہوں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

زندگی کی خوشیاں اور بے حسی پر اب تک ایک تبصرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *