نیک نے نیک اور بد نے بد جانا مجھے

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, بکواسیات, خیالیات, سماجیات, معاشریات, نفسیات

کالج میں میرا ایک استاد تھا، ہر دفعہ کلاس میں میرے ساتھ “سٹیروٹیپیکل” لطیفے مارتا تھا، کبھی میری داڑھی پر کبھی مسلمانی پر وغیرہ وغیرہ، میں اسکو ہنس کر ٹال دیتا تھا، ویسے اسکو لطیفے مارنے کی بڑی عادت تھی ہر ایک کے ساتھ مارتا تھا، اور کھل کر گندے لطیفے بھی مارتا تھا ایک دن کہتا کہ اگر کبھی کالج والوں نے مجھے کالج سے نکالا تو انہی حرکتوں کی وجہ سے نکالیں گے، خیر کسی کے دل میں کیا، اللہ جانے، میں نے بھی کبھی اس کے لطیفوں کو لطیفوں سے آگے نہیں لیا، ایک دن اس نے میرے بارے “دہشت گردی” والا لطیفہ مارا، میں وہ ہی مسکراہٹ چہرے پر لے آیا، تو ایک دم رک کر دوسرے لڑکوں کو کہنے لگا کہ “تمہیں اس کی مسکراہٹ سے ڈر نہیں لگتا”؟ کسی کے دل میں کیا اللہ جانے، لیکن کچھ لوگ اپنے دل اپنے الفاظوں سے ظاہر کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔

میں باہر جاتا ہوں، بہت سے لوگوں سے ملتا ہوں، میں فیس بک پر بہت بکواس کرتا ہوں یہاں بھی بہت لوگ کمنٹ کرتے ہیں، لوگ میرے بارے میں کتنا جانتے ہوں گے ؟ چار فیصد ، دس فیصد، حد ہو گئی پچاس فیصد، لیکن کبھی آپ انکے کمنٹ پڑھا کریں اور جو اصل زندگی میں جاننے والے کمنٹ دیتے ہیں انکے کمنٹ سنا کریں، سو فیصد کے لیول پر رکھ کر دیتے ہیں کہ جیسے انکی فہم نہیں قرآن کی آیت ہے جو غلط ہو نہیں سکتی۔۔۔۔

d17c15aa3df44238ba00014bd03b2e4e

کچھ سالوں پہلے کی بات ہے جب میں مزدوری کیا کرتا تھا ایک دن اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لے گیا، اس دن ڈرائے وال ڈیلیور ہوئی تھی جسکو اٹھا کر بیسمینٹ میں لے کر جانا تھا، اگر ڈرائے وال بس گتے کے اندر چونا بھرا ہوتا ہے، زرا زور لگاو تو ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، میرا چھوٹا بھائی جوانی کا زور لگا را کہ میں نہ کر سکوں تو اور کون کر سکے، میں نے اسکو تب یہ کہا تھا کہ کانفیڈینس بہت اچھی چیز ہے، انسان میں ہونا چاہیے، لیکن اوور کانفیڈینس بہت بری چیز ہے، یہ جاہل بندے کو اپنے جاہل ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

مجھے لوگوں کی باتیں بری لگتی تھیں، میرے بھی یار دوست ہیں جنکو میں شکایتیں لگا دیا کرتا تھا، اب بھی کبھی لگا دیتا ہوں، لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ اب میری شکایتوں میں کمی آگئی ہے، کیوں؟ میں نے برا منانا چھوڑ دیا ہے، میں نے یہ جان لیا ہے کہ لوگوں کی عمریں انکی عقل و فہم سے پچیس سال بڑی ہوتی ہیں، لوگ بیوقوف ہیں، لوگ جاہل ہیں، یہ جاہل اور بیوقوف رہنا پسند کرتے ہیں، یہ آپ کے بارے میں بہت جلد بہت گھٹیا نتائج اخذ کر لیتے ہیں، میں کرنے دیتا ہوں۔

پچھلے دن ایک بندا مجھے ایسی ہی شکایت لگا رہا تھا، تو میں نے اسکو بتایا تھا کہ تمہیں معلوم ہے
کسی بیوقوف اور جاہل انسان پر تم سب سے بڑا احسان کیا کر سکتے ہو ؟
وہ پوچھنے لگا کہ کیا ؟
میں نے کہا اس کو یہ احساس دلا دو کہ وہ جاہل اور بیوقوف ہے۔

پھر میں نے اس سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کسی جاہل
اور بیوقوف سے تم سب سے بڑا انتقام کیسے لے سکتے ہو ؟
کہنے لگا کیسے ؟
میں نے کہا کہ اسکو یہ احساس نہ ہونے دو کہ وہ جاہل اور بیوقوف ہے۔

لوگ آپ کے بارے میں ججمینٹس بناتے ہیں، انکو بنانے دیں، اصل میں وہ ججمینٹس آپ کے بارے میں کم ہوتی ہیں، زیادہ تو وہ لوگوں کی اپنی عقل و فہم، انکی شخصیت میں موجود صبر و تحمل، اور وہ زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں اس سب کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

موجودہ دور کے زیادہ تر انسانوں کا دماغ سولہ سترہ سال کی عمر میں ترقی کرنا بند کر دیتا ہے، اور وہ اسی سولہ سترہ سالہ دماغ کے ساتھ پچاس سال کا جسم لئے پھرتے رہتے ہیں۔۔۔۔

قصہ وہی ہے جو کسی شاعر نے کہا

نیک نے نیک بد نے بد جانا مجھے
جس کا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

نیک نے نیک اور بد نے بد جانا مجھے پر اب تک 5 تبصرے

  • کوثر بیگ

    Thursday، 22 January 2015 بوقت 1:47 pm

    بہت خوب لکها مجهے آپ عمر سے چهوٹے ہی لگتے ہو مگر.اتنی سمجهداری کی باتیں کیسے کر لیتے ہو ؟ کبهی وقت اور تجربہ بهی انسان کو بڑا کر دیتا ہے .

    اب سوچ رہی ہوں تو سچ میں میں تو آپ کے بارے میں دو فیصد بهی نہیں جانتی بس ایک خاکہ ہوتا ہے اپنے قیاس سے بنا ہوا سب ہی نیٹ کے دوستوں کی تحریر اور کمنٹز سے بحرحال خوب لکها.

  • عمار ابنِ ضیا

    Thursday، 22 January 2015 بوقت 4:37 am

    عمدہ، اور دلچسپ پیرائے میں سبق آموز بات جس نے غور و فکر کی دعوت دی اور اپنی حقیقت کے بارے میں ایک نئے پہلو سے سوچنے کی ترغیب دی۔ جزاک اللہ۔

  • افتخار اجمل بھوپال

    Thursday، 22 January 2015 بوقت 2:12 pm

    اس مین کوئی شُبہ نہیں کہ کسی بھی شخص کی رائے اُس کی اپنی سوچ اور تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے

  • اکبر

    Thursday، 22 January 2015 بوقت 8:09 pm

    بہت اچھا لکھا علامہ ٹام لوگوں کی باتوں کا اثر لینے والا اپنی دنیا اور آخرت اپنے ہاتھوں سے برباد کر لیتا ہے

  • اکبر

    Thursday، 22 January 2015 بوقت 8:53 pm

    بہت خوب لکھا علامہ ٹام لوگوں کی باتوں کا اثر لینے والا اپنی دنیا اور آخرت اپنے ھاتھوں سے برباد کر لیتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *