دہشت گردی کے واقعات میں معتدل موقف

موضوع: کوئی موضوع نہیں

تجربہ یہ سکهاتا ہے کہ اچها سوشیالوجسٹ بننے یا سوشل مسائل کو انکی گہرائی میں جا کر سمجهنے کے لئے آپکو بے حسی کی حد تک کسی بهی قسم کے جذبات سے عاری ہو کر مکمل طور پر ریشنل ہو کر دیکهنا پڑتا ہے، لبرل اور مذہبی طبقے میں موجود اختلافات میں شدت پسندی کی ایک وجہ ایک “اچها سوشیالوجسٹ” نہ ہونا بهی ہے، یعنی یہ حضرات کسی بهی واقعے پر غور و فکر کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نہ تو احساسات سے عاری کرتے ہیں نہ ہی تصویر کو مخالف کی نظر سے دیکهنے کی صلاحیت ان حضرات میں ہوتی ہے۔

دوسری چیز سوچنے سمجهنے کی صلاحیت ہے اور چونکہ “سائبر سوشیالوجسٹس” جذبات سے عاری نہیں ہیں لہذا مسئلے کی اصل وجوہات کے بارے میں غور و فکر کرنے کی بجائے مخالفت الزام برائے الزام کی کیفیت زیادہ ہوتی ہے، مخالف نظریات کو قبول کرنا تو دور اس پر غور و فکر کرنے اور امکان وقوع کو تسلیم کرنے کے لئے بهی دماغ تیار نہیں ہوتا، ایک گروہ کو ہر دہشت گردانہ کاروائی میں طالبان کا ہاته نظر ہے جبکہ دوسرا گروہ ہر واقعے میں “یہودی سازش” اور امریکی و بهارتی گٹه جوڑ تلاش کرتا رہتا ہے، معاملہ مزید اس وقت مزحکہ خیز ہو جاتا ہے جب سائنسی حوالے سے ہر قسم کی “کانسپیریسی نظریے” پر اندها اعتماد رکهنے والے مخالف کی کسی بهی تهیوری یا نظرئیے پر غور و فکر کرنے کی بجائے “کانسپیریسی پکوڑا” کہہ کر ایسے رد کرتے ہیں جیسےآئی ایس آئی کے ساته واقعہ کی پانچ سالہ تحقیقات کرتے رہے ہوں۔

اسی لئے موجودہ سانحہ یوحنا آباد کے تناظر میں ہونے والے واقعات پر آپ نے کچه لوگوں کے ایسے کمنٹس دیکهیے ہوں گے کہ جب مسلمانوں نے عیسائی جوڑے کو جلایا تها تو تب تم کیوں خاموش تهے، اور دوسری طرف سے واقعہ یوحنا آباد میں ہلاک ہونے والے عیسائی حضرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور یہ ہی چیز معاشرے میں شدت پسندی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ہمیں بحثیت مسلمان اس واقعے پر افسوس ہے، عیسائی حضرات کے ساته ہونے والے ظلم پر بهی اور مسلمان جوانوں کے ساته ہونے والے ظلم پر بهی، وجہ اسکی واضح ہے کہ ظلم بہرحال ظلم ہے عیسائی کے ساته ہو یا مسلمان کے ساتھ اور بحثیت مسلمان ہمیں ہر ظلم پر اظہار افسوس کرنا چاہئیے یہ دیکھے بغیر کہ مظلوم کا مذہب کیا ہے۔ – لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم معاملے کی گہرائی اور اسکے اثرات پر جذبات کی شدت میں بہہ کر غور و فکر کرنا چهوڑ دیں بہت سے لبرل اور کچھ پڑھے لکھے سمجھدار حضرات بھی اپنی اپنی مرضی کی جگہ پر واقعات کے تانے بانے ملانا شروع کر دیتے ہیں،جہاں تک ان تانوں بانوں کی بات ہے تو یہ تانے بانے بهی طاقت کا کهیل ہیں، جسکے پاس پیسہ اور پراپگینڈا کی طاقت ہے وہ جسکے تانے جسکے بانوں سے چاہے ملا سکتا ہے، ورنہ طالبان کے نام پر بهتہ تو کالج یونیورسٹی کی لڑکیاں بهی کها گئی ہیں۔

عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

دہشت گردی کے واقعات میں معتدل موقف پر اب تک 2 تبصرے

  • عمران اسلم

    Friday، 20 March 2015 بوقت 7:19 pm

    ورنہ طالبان کے نام پر بهتہ تو کالج یونیورسٹی کی لڑکیاں بهی کها گئی ہیں۔

    دیا تو دھر کے ہے لالا۔ پر میں کیوں سمجھوں؟؟

  • افتخار اجمل بھوپال

    Friday، 20 March 2015 بوقت 4:34 am

    چاچا تامے جی ۔ آپ تو بڑے سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں ۔
    اور ہاں ۔ وہ آپ نے سُنا شفقت حسین کا قصہ جس کی پھانسی کی سزا رُکوانے کیلئے نام نہاد سِول سوسائٹی اور اپنے آپ کو انسانیت پرست کہنے والی این جی اوز نے جُرم کے وقت نابالغ قرار دے دیا تھا ۔ وہ سب جھوٹ نکلا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *