میں کون ہوں؟

موضوع: نفسیات

لیں جناب ایک دفعہ پھر سے تعارف کا وقت ہوا ہے، کچھ دوستوں نے کہا تعارف کروائیں اور ایک دوست نے تو مجھ سے بائیوگرافی لکھنے کی درخواست ہی کر دی، ایک تعارف میں اپنے بلاگ پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں، اور شاید یہ تعارف بھی اس سے ملتا جلتا ہے، تعارف کیا ہے، عمومی طور پر یار دوست اپنا نام عمر کام شام تعلیم  بتا کر فارغ ہو جاتے ہیں، لیکن کیا وہ تعارف ہے ، میرے لئے شاید نہیں، حقیقت میں مجھے نام سے غرض بھی نہیں ہوتی، میں شاز شاز ہی اپنے فیسبکی دوستوں وغیرہ سے انکے اصل نام کی درخواست کرتا ہوں، اکثر جب لوگ مجھ سے میرا اصل نام جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو بھی ٹالنے کی کوشش ہی کرتا ہوں، وہ کیا ہے کہ شیکشپئیر بھی کہہ گیا ہے کہ جناب نام میں کیا رکھا ہے، حقیقت بھی یہی ہے دنیا اصل چیز پر توجہ نہیں کرتی، جو کہ کام ہے، اور ایک غیر ضروری چیز کو بہت اہمیت دیتی ہے وہ نام ہے، اسی لئے پاکستانیوں میں فقرہ مشہور ہے کہ جناب ہمارا تو نام ہی کافی ہے، جناب فلاں کا تو نام چلتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانیوں کا کہیں کام نہیں چلتا۔

میرا تعارف، میں کون ہوں ؟

اپنے اجمل چاچا کے بلاگ کا سلوگن بھی اس سے ملتا جلتا ہے “میں کیا ہوں“، جون ایلیا کہہ گیا تھا

تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں

اجمل چاچا کے بلاگ کا سلوگن اشارہ دیتا ہے کہ انکے بلاگ کا ایک مقصد خود کو جاننے کی کوشش ہے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ انسان بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی خود کو جان پاتے ہیں، اگر انسان خود سے خود کو جان پاتے تو شاید کبھی نفسیات کا موضوع وجود میں نہیں آتا، ویسے تو نفسیات کے موضوع کا مقصد انسان کا “خود” کو سمجھنا تھا، لیکن انسانوں نے اس موضوع کو ہی غلط سمجھ لیا انہوں نے اس سے خود کو سمجھنے کی بجائے دوسروں کو سمجھنے کا کام لینا شروع کر دیا، اسی لئے آپ نے مشکل ہی کسی انسان کا نام سنا ہو گا جس نے اپنا نفسیاتی علاج خود کیا ہو، بلکہ ماہر نفسیات بھی خود کو سمجھنے کے لئے دوسرے ماہر نفسیات کے پاس ہی جاتے ہیں۔

خود کو سمجھنا اور دوسروں کو سمجھنا، تجربے نے بتایا ہے کہ انسان دونوں معاملات میں ہی فیل ہوا ہے!

میں کون ہوں ؟
Who_am_I__by_xed83
اس موضوع پر دہریت کی اپروچ بھی غلط ہے، انہوں نے میں کون ہوں کی بجائے میں کیوں ہوں پر غور فکر کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ بنیادی سی بات ہے کہ آپ “الف” کو جانے بغیر “ب” کو نہیں جان سکتے، اور اس موضوع کا “الف” یہ تھا کہ “میں کون ہوں” اور اگر آپکو “ب” پر جانے کی اتنی جلدی ہی تھی تو اس موضوع پر غور کر لیتے کہ “میں ایسا کیوں ہوں” لیکن نہیں جناب انسان کی “مت” ماری جاتی ہے تو اسکو سمجھ نہیں آتا کہ میں نے کس راستے سے کس منزل کی جانب جانا ہے اسئی لئے وہ موضوع سے بہت دور نکل گئے اور پوچھنا شروع کر دیا کہ “میں کیوں ہوں” ۔ میں کیوں ہوں کا جواب آپکو نہیں مل سکتا، کیوں کہ ظاہر ہے، آپ کے پاس کیوں کا ہونا آپکو “جاہل” ثابت کرتا ہے، تبھی آپ علم کی تلاش یعنی کیوں کی تلاش مین ہیں، اور آپکی جہالت سے یہ خوبخود ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کسی کی مخلوق ہیں، اور یہ اس دنیا کا اصول ہے کہ مخلوق کو اسکی ضرورت کی معلومات خالق کی طرف سے پہنچا دی جاتی ہیں، اگر آپکو یہ جاننا ہے کہ میں کیوں ہوں تو خالق کی طرف سے دی گئی معلومات میں سے اسکا جواب تلاش کریں۔

میں کون ہوں؟

میں انسان ہوں، آپ جیسا ہونے کے باوجود میں آپ جیسا نہیں ہوں، میں آپ جیسا ہوں، لیکن میری شکل آپ جیسی نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں لیکن میری آواز آپ جیسی نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں میرے بال ناک کان ہونٹ آپ جیسے نہیں ہیں، میں آپ جیسا ہوں ، میرا رویہ آپ جیسا نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں لیکن میری سوچ آپ کی سوچ جیسی نہیں ہے۔

میرا رویہ اور سوچ آپ کے رویے اور سوچ جیسے نہیں ہیں، اصل چیز جو مجھے آپ سے الگ اور ممتاز کرتی ہے، جو کسی بھی انسان کو دوسرے سے الگ اور ممتاز کرتی ہے، وہ اسکا نام ، پتا اسکی عمر رنگ و شباہت نہیں ہے، وہ اس انسان کا رویہ اور اسکی سوچ ہے۔

آپ کی سوچ کیسی ہے؟
آپکا رویہ کیسا ہے ؟

جی مجھ سے بہت دنیا خوش ہے، میری سوچ یہ ہے کہ میرا رویہ ایسا ہونا چاہئیے کہ کسی کو مجھ سے تکلیف نہ ہو ۔

کیسی تکلیف نہ ہو ؟

کوئی انسان میری کسی بات سے نا خوش نہ ہو

کیوں بھئی آپ منافق ہیں ؟

جی ہاں آپ منافق ہیں، کیونکہ آپ حق بات نہیں کہتے آپ سچے کے سامنے تو سچ بولتے ہیں لیکن جھوٹے کو خوش کرنے کے لئے اسکے سامنے جھوٹ بھی بولتے ہیں، آپ منافق ہیں، کیونکہ آپ خدا سے نہیں انسان سے ڈرتے ہیں، آپ ڈرتے ہیں کہ کوئی مجھے “بدتہذیب” نہ سمجھ لے، آپ اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے بجائے فوراً کسی کے غلط نقطہ نظر سے اتفاق کر لیتے ہیں، آپ ڈرتے ہیں کہ کوئی آپ پر “اختلافی” کا فتوی نہ لگا دے، آپ ڈرتے ہیں کہ آپکے بےباکانہ روئیے سے کوئی آپ کو بدتمیز نہ سمجھ لے۔

میں کون ہوں ؟

میں ایک نہایت بد تہذیب انسان ہوں، مجھے انسانوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے بات کرنے کی تہذیب نہیں ہے، میں غریبوں والے کپڑے پہن کر امیروں میں بیٹھ جاتا ہوں، غریبوں کے درمیان زمین پر بیٹھنے سے میرے کپڑے گندے نہیں ہوتے، میں اپنی غربت کے باوجود اپنے میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ انکو برا لگے گا، میں اردو دانوں کے سامنے پنچابی بولنے سے نہیں شرماتا، میں پنجابی ایکسنٹ میں رادو بولنے سے نہیں ڈرتا، میں انگریزی دانوں کے سامنے اپنی اردو پر فخر کرتا ہوں۔

میں کون ہوں ؟

میں ایک نہایت بدتمیز انسان ہوں، میں اس بات کی پرواہ سے عاری ہوں کہ میرے آپکو جاہل کہنے سے آپ یا کوئی اور مجھے کیا سمجھے گا ، میں آپکی جہالت کا ثبوت آپکے سامنے رکھ کر آپکو جاہل کہنے سے باز نہیں آوں گا حالانکہ میں جانتا ہوں کہ آپ خود کو علامہ سے کم نہیں سمجھتے۔

میں کون ہوں؟

میں تفرقے باز ہوں، مجھے اتفاقی ہوائیں راس نہیں آتیں، میں لوگوں کی ان باتوں سے اتفاق نہیں کر سکتا جن سے مجھے اتفاق نہ ہو، جب موقع ملے میں اپنا اختلاف ضرور ظاہر کرتا ہوں، میں ہر وقت اس موقعے کی تلاش میں رہتا ہوں کہ باطل کے سامنے حق کا اظہار کیا جائے، میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے، میں جھوٹے کے سامنے سچ کہنے سے نہیں ہچکچاتا ۔ یقیناً میں ایک تفرقے باز ہی ہوں۔

میں کون ہوں؟

میں بے حس انسان ہوں، میں ایک بے پرواہ انسان ہوں، میرے اندر سے اس بات کا احساس ختم ہو چکا ہے کہ “انسان” مجھے کیا سمجھتے ہیں، میں اس بات سے بے پرواہ ہو چکا ہوں کہ انسان مجھے کیا سمجھیں گے۔

تو میرا حوصلہ تو دیکھ
تو داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں
خوفِ زوال بھی نہیں

جون ایلیا

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

میں کون ہوں؟ پر اب تک 2 تبصرے

  • sheikho

    Sunday، 1 March 2015 بوقت 1:36 pm

    اعلی خیالات اور بہترین تعارف ۔۔۔۔ چھوٹی عمر میں صدیوں کا نچوڑ

  • افتخار اجمل بھوپال

    Sunday، 1 March 2015 بوقت 5:00 am

    چاچا تامے جی ۔ ”میں کون ہوں “ بتانے کی کوشش میں دس سال ہونے کو آئے مگر ہنوز ”میں کون ہوں کیا ہوں ؟ کسی کو خبر نہیں“۔
    کہنے والے کہہ گئے ” اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی ۔ تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *