انسانیت کی کمی

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, سماجیات

سلیم بھائی نے فیس بک پر ایک نئے سٹیٹس کے تحت یہ بات لکھی کہ وہ چائنا میں سفر کر رہے تھے جہاں انکے ہمراہ ایک عورت اپنی ایک معذور بچی کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور سفر میں موجود پاکستانی مردوں اور دیگر ممالک کے لوگوں کے کسی نے نہ انکی کوئی فکر کی نہ مدد کی نہ ہی کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی، اس سے مجھے یہ بات یاد آئی کہ میں جاب پر ایک بندے سے بات کر رہا تھا جس نے شاید اب بڑھاپے کی طرف جاتے ہوئے ان چیزوں کے بارے سوچنا شروع کیا ہے جن پر انسان شاید جوانی میں نہیں سوچتا، بس باتیں کرتے ہوئے ہم انسانوں کی بغیرتیوں پر نکل گئے تو وہ انکل کہنے لگے کہ ان لوگوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے، میں نے کہا کچھ چیزیں سیکھنے کے لئے انسان کو کالج اور یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف بنیادی انسانیت کا ہونا ضروری ہے (اگر کسی کے پاس بنیادی انسانیت ہو تو اسکو پتا ہو کہ ہماری بس میں ایک معذور بچی ہے جسکی سہولت کا سامان اپنے بس میں چڑھنے سے پہلے کرنا ہے) –

تو وہ صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کہ ہاں تو بنیادی انسانیت کہاں سے آئے گی ؟
میں نے کہا کالج میں بائیو کیمیسٹری یا انجنئیرنگ پڑھنے سے تو یقینا نہیں آئے گی کیونکہ ان مضامین میں انسانیت یا اخلاقیات کے نام پر کچھ پڑھایا نہیں جاتا –

تو وہ کہنے لگے کہ ضروری نہیں ہے کہ کالج یونیورسٹی سے ہی انسانیت سیکھی جائے اگر آدمی کچھ “تعلیم” حاصل کرنے لگے تو اپنے کلچر اور مذہب وغیرہ سے بھی بہت سے اخلاقیات سیکھتا ہے –

مجھے نہیں معلوم کہ انکل کی بات میں کس قسم کے لوگ شامل تھے لیکن مجھے مسلمان ہونے کے ناتے یہ بڑا زناٹے دار تھپڑ اپنے گال پر محسوس ہوا کہ بحثیت مسلمان ہمارا دین اسلام اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سب سے زیادہ انسانیت ہمیں سکھائی ہے ٹھیک ہے ہم اگر گالیاں سن کر دعائیں نہیں دے سکتے یا زخم کھا زخم دینے والے پر پھول نہیں برسا سکتے تو کم سے کم ہم اتنا تو احساس کر سکتے ہیں کہ بس میں ایک بچی معذور ہے جسکی ماں اسکو سفر میں پتا نہیں کب سے گھسیٹ رہی ہے اور کچھ نہیں تو اسکی ماں کو دروازے کے ساتھ والی سیٹ ہی دے دیں کہ اترنے چڑھنے میں آسانی ہو –

یہ زمانے کی سختی کا بہانہ بھی ایک بہانہ ہے میں نے زمانے کی اختی سے گزرے ہوئے انسانوں کو سخت نرم خو بنتے دیکھا ہے ایسے لوگوں کو سختیوں کا احساس ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں کی خدمت کا کچھ قدر جذبہ ہوتا ہے لیکن میرے مشاہدے کے مطابق پاکستانی زمانے کی شکار نہیں ہیں بلکہ سخت قسم کی مادہ پرستی، حوس اور لالچ کا شکار ہیں، دوسروں کے ساتھ معاشی ترقی کا مقابلہ کرنے کی دوڑ میں لوگ مذہب اور اقدار سے بہت دور چلے گئے ہیں دماغوں پر پیسے دولت کا ایسا خول چڑھ چکا ہے جس نے دلوں کو بھی کالا کر دیا ہے-

میرے خیال سے اس بات پر دھرنے دینے کی بجائے کہ کس شخص کو ملک کا وزیر اعظم ہونا چاہئیے ہمیں اس بات پر دھرنا دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے لوگوں میں بنیادی انسانیت ہونی چاہئیے –

عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *