پہلا روزہ اور بے ربطگیاں

موضوع: احساسات و آپ بیتیاں, خیالیات, سمجھو اور سمجھاو, سوالیات

شروع رمضان میں ہی کوثر بیگ صاحبہ نے یہ سلسلہ شروع کر دیا تھا کہ آپ اپنے پہلے روزے کے بارے بتلائیں، شاید وکیل گھمن صیب کی پوسٹ کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا، میری سستی ہے کہ پوسٹ نہیں پڑھی، ویسے تو اس موضوع پر کسی بھی بلاگر کی کوئی پوسٹ نہیں پڑھی، پتا نہیں کیوں ، دل ہی نہیں کیا، مجھے بھی کوثر بیگ صاحبہ کا میسج آیا تھا، کہ تم بھی اس موضوع پر پوسٹ لکھو، جب کچھ لکھنا ہوتا ہے تو میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آجاتا ہے، پھر لکھنے بیٹھتا ہوں تو الفاظوں سے جملے اور جملوں سے پیرے بننا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن اس موضوع پر سوچ کر بھی کچھ نہیں آیا، خیر جاب پر کافی بریک کا وقت تھا، اس وقت کہہ دیا کہ گھر جا کر شام کو لکھ دوں گا، انہوں نے بتلایا بھی کہ وہ انتظار کریں گی، ارادہ میرا بھی تھا، لیکن گھر جا کر پتا نہیں کیا کیا، ہاں شام کو ابا کی دکان پر خواری کی اور اگلے دن پھر سویرے سویرے جاب پر واپس جانا تھا، ہر دوسرے دن سوچا کہ آج لکھوں آج لکھوں، لیکن میں بھی ویسا ہی سست اور نکما انسان ہوں جیسے اکثر اجکل پائے جاتے ہیں ۔ آج وقار بھائی کا میسج آگیا، آنکھ مار کر پوچھ رہے تھے کہ ہاں بھئی لکھ دی پہلے روزے کی کارگزاری تو انکا میسج اور بلاگ پوسٹ کا لنک دیکھ کر شرم آگئی کہ ایسے ایسے مصروف انسان لکھ گئے اور میں ابھی تک اس تالاب سے مچھلی نہیں پکڑ سکا ۔ تو سوچا آج کچھ لکھ ہی دوں ویسے بھی کوثر بیگ صاحبہ نے کہا تھا کہ اگر پہلا روزے نہیں یاد تو کچھ بھی لکھ دو ۔

سچی بات کہوں تو مجھے اپنے بچپن کے روزے، کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ شروع سے ہی رکھتے آئے کبھی “چڑی روزے” جو سحر کھا کر سونے کے بعد صبح اٹھتے ہی افطار بھی ہو جاتے تھے، اور چونکہ یہ سلسلہ اتنی کم عمری سے ہی شروع ہو چکا تھا کہ دماغ کے یاد رکھنے والے حصے نے اسکو یاد رکھنے کی ضرورت نہ سمجھی ،
ایک دوسری وجہ شاید یہ بھی تھی کہ دوسرے بچوں کی طرح میرے گھر والوں نے روزہ کشائی نامی کوئی پارٹی وغیرہ نہیں رکھی، شاید اس شو شا کی وجہ سے بھی یاد نہیں ۔ بہر کیف پہلا روزہ بلکل بھی یاد نہیں ۔
ہاں کچھ باتیں یاد ہیں، بچپن میں سحری میں اٹھ جایا کرتے تھے تو گھر والے سلانے کی کوشش کرتے تھے، اور اگر کبھی نہیں اٹھایا جاتا تھا تو گھر والوں سے صبح اٹھ کر بحث کی جاتی تھی کہ سحری کے وقت اٹھایا کیوں نہیں تھا، کئی دفعہ تو والدہ صاحبہ سے یہ بھی سنا کہ ہم خود دیر سے اٹھے تھے تو اتنا وقت نہیں تھا کہ تمہیں بھی اٹھاتے ۔
ایک دھندھلا سا سین ضرور یاد ہے جب ایک کمرے میں مٹھائی کا ڈبہ رکھا ہوا تھا تو میں روزے کے باوجود ہر دس منٹ بعد ایک لڈو کھا لیا کرتا تھا۔۔۔ روزے شاید سردیوں کے تھے اسی لئے مین نے کوئی ڈارک رنگ کی جرسی بھی پہن رکھی تھی، اس وقت ہم لوگ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے، سارے خاندان کا چھت پر جمع ہو کر دھوپ سینکنا بھی یاد ہے ۔ یہاں کینیڈا میں بھی سردیوں کے ہی روزے ہوتے تھے، مجھے یاد ہے برف میں شلوار قمیض پر چپلیں پہن کر عید کی نماز پڑھنے جاتے تھے۔ پھر پتا نہیں کب سورج کب نکلا کب غروب ہوا چاند نے کتنے چکر کاٹے کے روزے گرمیوں کے ہو گئے ۔

روزہ پہلے ہی مسلمانوں کو بہت لگتا تھا ، اب اور بھی لگنا شروع ہو گیا، ایک دن پہلے روزے کسی کام سے شاپنگ مال چلا گیا، وہاں اک بندا بڑا لمبا چوڑا موٹا تازہ جوان ایسے منہ لٹکائے بیٹھا جیسے کوئی مر گیا، میں نے پریشان ہو کر پوچھا کہ یار کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھا وا، کہنے لگا یار روزہ رکھا ہے، میں تو یہ بھی نہ سوچ سکا کہ اس پر ہنسوں یا رووں، خیر اسکو تسلی دی، بہت سے مسلمانوں کی حالت پہلے روزے ایسی ہی ہوتی ہے، مجھے نہیں معلوم پچھلے رمضان انہوں نے روزے کیسے رکھے ہوتے ہیں، میرے خیال سے روزے میں دب کے سحری اور دب کے ہی افطاری کرنے کے نتائج ہیں، روزے کا مقصد فاقہ کشی کا احساس بھی ہے، اگر وہ فاقہ کشی کا احساس نہیں ہو رہا تو آپکو دب کے سحری نہیں کرنی چاہئیے، ہاں سحری کی سنت ضرور پوری کر لیں لیکن سحری کے ساتھ ساتھ دوپہر اور شام کی گنجائش پوری نہ کریں۔
ہمارے لڑکپن میں کیبل کا رواج بہت ہو گیا تھا، ایک دفعہ روزوں کے شروع میں ہی ایک ہمسائے سے اس وجہ سے ہی لڑائی ہو گئی تھی کہ رمضان شروع ہوتے ہی انہوں نے کیبل لگوائی، کیبل کی تار لگانے آیا کیبل آپریٹر تو ہم اسکو کہہ بیٹھے کہ روزے میں گناہوں کی تیاریاں ، یہ کیا مسلمانیت ہے بھائی تو جناب کی گھوری بھی دیکھی اور گالیاں بھی سنیں۔ کچھ اپنی مسلمانیت بھی ایسی سی ہی ہے ۔

ہاں ہمارے بچپن میں غیر رسمی قسم کے مقابلے بھی بہت ہوا کرتے تھے، کہ فلاں نے اتنے روزے رکھ لئے، فلاں نے اتنے روزے رکھ لئے ۔۔ عبادتوں کے بھی مقابلے تھے، کچھ لوگوں میں تو یہ مقابلے بازی کی عادت ایسی پختہ ہو گئی کہ اب بھی وہ اپنی عبادت کے چرچے جس انداز سے کرتے پھرتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اللہ کے لئے نہیں مقابلے کے لئے کر رہے تھے،

پچھلے کئی رمضان ایسا ہی ہوا کہ میری طبیعت رمضان میں خراب ہو جاتی تھی،
میں پچھلے کئی رمضانوں سے اچھا مسلمان بننے کی کوشش کر رہا ہوں، ہر دفعہ یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ چلو اس دفعہ مسلمان بن جاتے ہیں، نمازوں کی پابندی کر لیتے ہیں قرآن ختم کر لیتے ہیں، تراویح پورا رمضان پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن ہر دفعہ ارادے بس ارادے ہی رہ جاتے ہیں۔

آجکل تو یہ سوچتا ہوں کہ رمضان میں یہ جو شیطان کو قید کر لیا جاتا ہے یہ ہمیں یہ احساس دلانے کے واسطے کیا جاتا ہے کہ ہم لوگوں کو بہکانے نیکیوں سے دور رکھنے اور گناہگاری میں ڈالنے کے لئے شیطان کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ رمضان میں بھی وہی کام جاری رکھے ہوئے ہیں، ویسے ہی ان نیکیوں سے ہٹے ہوئے ہیں جن سے غیر رمضان میں ہٹے ہوئے تھے، ویسے ہی وہی گناہ سر انجام دے رہے ہیں جو رمضان سے پہلے دے رہے تھے، ویسے ہی نمازیں پوری نہیں ہو رہیں اور ویسے ہی قرآن کھولا نہیں جا رہا۔۔۔۔ اب بندا شیطان کو کیا کیا قصور وار ٹھہرائے ۔۔۔

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

پہلا روزہ اور بے ربطگیاں پر اب تک 4 تبصرے

  • محمد اسلم فہیم

    Wednesday، 15 July 2015 بوقت 4:49 am

    خوبصورت یادیں ہیں آپ کے بچپن کے روزوں کی
    “جب مقابلے صرف نیکیوں کے ہوتے تھے “

  • نجیب عالم

    Wednesday، 15 July 2015 بوقت 10:01 am

    بہت اعلی اور مزے کی تحریر

  • […] تحریر: پہلا روزہ اور بے ربطگیاں […]

  • کوثر بیگ

    Wednesday، 15 July 2015 بوقت 7:04 pm

    آپ کی تحریر کا بڑا انتظار تھا تو جناب نے لکھ دی اس میں بھی آپ نے سماج کو آئینہ دیکھانے لگے ،چلو کوئی بات نہیں میں تو کہتی ہوں اس طرح کے کہنے والے ہی سماج میں سدھار لے آتے ہیں
    روزے کے باوجود ہر دس منٹ بعد ایک لڈو کھا لیا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہا یہ ہی تو بچپن کی بھولی باتیں یاد رہ جاتنی والی ہوتی ہیں اوربڑے ہونے کے بعد مسکرانے کا موقعہ عطا کرتی ہیں

    بہت شکریہ بھائی اس تحریر کے لئے اللہ آپکو خوش و خوش حال رکھےسدا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *