تعارف

دو ہزار آٹھ میں جب میں نے ، ورڈ پریس پی کے پر بلاگ بنایا تھا تو اُس میں اپنے بلاگ کے’’اباوٹ صفحے‘‘ پر جو اپنا تعارف کروایا تھا ، وہ اُسی قسم کا تھا جو فیس بک پر موجود ہے ۔ یعنی وہی بکواس لطیفہ کہ میرا قد تین اعشاریہ پانچ فُٹ ہے اور میں اتنا موٹا ہوں کہ مجھے بیٹھنے کے لیے دو کرسیوں کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ کہ میرا رنگ توے کی طرح کالا ہے ، اور یہ بھی کہ سکول میں لوگ مجھے دیسی نِگا کہہ کر چھیڑا کرتے ہیں۔ تب میرے بلاگ کا سلوگن بھی ’’ یہاں سب بکواس ہے‘‘ ہوا کرتا تھا ۔ لیکن چونکہ میں اُس وقت سے ہی انکل ٹام تھا لہذا چول تو کہیں مارنا فرض ہے نہ مجھ پر ۔

مجھے بچپن سے ہی ہڈ حرام کا خطاب ملا ہے ، لہذا یہ ہی ہڈ حرامی میں پوسٹ لکھنے میں  بھی  دکھاتا ہوں ، بلاگنگ کرنے سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں اتنا موڈی انسان ہوں ۔ اب اپنا بلاگ دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ میں کتنا موڈی بندا ہوں ، یعنی موڈ اور ماحول ہوا تو ایک ہی دن میں دو دو پوسٹس بھی لکھ ڈالیں ، اور جب موڈ نہ ہوا تو مہینوں ہی کچھ نہ لکھا ۔ یعنی بلاگنگ نے مجھے اپنے بارے میں بھی بہت سکھایا ہے ۔ لیکن میں بلاگنگ کا شکریہ ادا نہیں کروں گا ۔ کیونکہ بے تکلفے کہتے ہیں کہ ایک دوست اور پکے دوست میں یہ ہی فرق ہوتا ہے کہ ایک دوست جب آپکی کوئی چیز استعمال کرتا ہے تو پوچھ کر کرتا ہے اور پھر شکریہ بھی ادا کرتا ہے ، لیکن پکا دوست جب کوئی چیز استعمال کرتا ہے تو نہ پوچھنے کی زحمت کرتا ہے نہ ہی شکریہ ادا کرتا ہے ۔

بلاگنگ سے میرا واسطہ اتنا بھی پرانا نہیں ہے ، مجھے یاد ہے کہ میں جب بہت زیادہ بور ہو جاتا تھا تو پھر گوگل میں کچھ نہ کچھ پڑھنے کو سرچ کرتا تھا ، اور اکثر اجمل چاچا کے بلاگ پر پہنچ جاتا تھا اور انکی پوسٹس پڑھا کرتا تھا ۔ تب مجھے بلاگنگ اور ویب سائٹ میں فرق معلوم نہ تھا ۔ بلاگنگ سے میرا صحیح والا تعارف ورلڈ ریلیجنز کی کلاس میں ہوا ، جب میرا کام ’’ہندوں کی شادی‘‘ کے حوالے سے کچھ تحقیق کرنا تھا ، اسی گوگلی تحقیق کے دوران میں ایک گوری کے بلاگ پر پہنچا جس نے ایک ہندو سے شادی کر رکھی تھی ۔ وہاں سے میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ جب اُردو کے بلاگ ہو سکتے ہیں تو انگریزی کے کیوں نہیں (جسکو سمجھ آئی صرف ہو ہنسے ) ۔ بس وہ دن ہے اور آجکا دن ، میں اردو بلاگز کا مستقل قاری ہوں ۔

بلاگنگ کے حوالے سے مجھے سب سے زیادہ پُر کشش چیز جو لگی ، وہ یہ تھی کہ آپ اپنے دِل کا حال کھل کر لکھ سکیں ، یعنی ایک سپیس جو صرف آپکی ہو ، وہاں قانون بھی آپکے بنائے ہوئے ہوں جہاں حکمرانی آپ کرتے ہوں ۔ تو کھل کر کہیں جو کہنا ہے ۔ اسی وجہ سے مجھے اُس لڑکی کا بلاگ سب سے زیادہ اچھا لگا تھا جو اپنے بلاگ پر کھل کر گالیاں نکالا کرتی تھی ، بلاگ ایوارڈ والوں نے تو پتا نہیں کیا دیکھ کر ایوارڈ دیا ، اگر میں کسی کو ایوارڈ دیتا تو ضرور اُس لڑکی کو ہی دیتا ۔

گو کہ میں اتنے زیادہ کمنٹس نہیں کرتا ، لیکن میں اردو اور بہت سے انگریزی بلاگز کا قاری ہوں اور رہا ہوں ۔ اور بلاگنگ شروع کرنے پر جتنا انسپائر مجھے اُس لڑکی کے بلاگ نے کیا ، کسی اور نے نہیں کیا ۔ لیکن باوجود کوشش کے میں آج تک کوئی ایسی پوسٹ نہیں لکھ سکا جس میں ، میں نے کھُل کر گالیاں نکالی ہوں۔ لیکن زندگی جس نہج پر جا رہی ہے تو کچھ بعید نہیں کہ مستقبل قریب یا بعید میں ، کوئی میرے بلاگ سے بھی اُسی طرح متاثر ہو جیسے میں اُس لڑکی  کے بلاگ سے ہوا ۔

آوٹ آف ٹاپک نوٹ:۔ ٹھرکی اور نان ٹھرکی حضرات سے درخواست ہے کہ اُس لڑکی کے بلاگ کا لنک مجھ سے نہ مانگیں کیونکہ اب وہ مجھے بھی یاد نہیں ۔

تو ، ایک فلسفی جسکو دنیا نہیں جانتی ، نے کہا ہے کہ خود پر ہنسو ، اگر تم خود پر نہیں ہنسو گے تو دنیا تم پر ہنسے گی ۔گو کہ اس فلسفی کے لیکچرز مجھے دو سال تک سننے ہیں کیونکہ یہ فلسفی میرا ایک استاد واقع ہوا ہے لیکن میرا نہیں خیال کہ مجھے ان دو سالوں میں اس فلسفی کی اسکے علاوہ کوئی بات یاد رہے گی ۔ خود پر ہنسنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چولز اور نان چولز میں فرق کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر جب میں نے شروع میں اپنا بلاگ بنایا تھا تو بلاگسپاٹ کے فراہم کردہ چھوٹے ڈبے میں اپنی نفسیاتی پرابلمز کی کہانیاں بھی لکھی ہوئی تھیں ۔ اُن کا کچھ اور فائدہ تو نہین تھا لیکن چولز اور نان چولز میں فرق ضرور ہو جاتا تھا ۔

چولز اور نان چولز میں فرق کرنا بہت آسان ہے ، لیکن اس کے لیے آپکو خود پر (میرے نزدیک تو نہیں ) لیکن کچھ نہ کچھ تشدد کرنا پڑتا ہے اور وہ فلسفی کے بیان کردہ اصول کے مطابق ایک طرح سے خود کی ہنسی اُڑانا ہوتا ہے ۔ اور ایسا کرتے وقت آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ خود کا مذاق اڑانا کتنا مشکل کام ہے ۔ اور کیا فرق ہے اِس میں کہ آپ خود پر ہنسیں اور پھر دنیا آپ پر ہنسے ۔ میں نے بہت سے کامیڈینز کو سُنا ہے ، بہت سے ، ہر ایک کا مذاق اُڑاتے ہیں  سٹیج سے نیچے جھانکتے ہیں ، جو پہلا نظر آتا ہے اُسکا مذاق اڑاتے ہیں ، اسکی قوم ، اسکے ملک کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ اپنے باپ کا بھی مذاق اُڑانے سے باز نہیں آتے ۔ لیکن  کوئی خود سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنا مذاق نہیں اڑاتا ۔ بہرحال بات کہاں سے کہاں نکل گئی تو چولز اور نان چولز میں فرق یہ ہے کہ جب آپ خود کا مذاق اڑائیں گے تو گروہِ چولاں آپ کی اُس بات کو لے کر ہنسے گا اور  آپ کے علمی دلائل کو اُسی ہنسی میں اُڑا دے گا ۔ اُس وقت آپ کو معلوم ہو گا کہ اکثر روشن خیال کچھ معملات میں کتنے بنیاد پرست واقع ہو جاتے ہیں ۔ بلکل ایسے ہی جیسے روشن خیال امیر خاندان اپنے بچوں کی ایک کمزور اور غریب خاندان میں شادی نہ کرنے کے معاملے میں کتنا بنیاد پرست ہو جاتا ہے ۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی ، تو جناب دو ہزار آٹھ میں کافی بلاگر ہوا کرتے تھے جو فی زمانہ معدوم ہیں ، بہت سے ایسے ہیں جو میری بکواسی پوسٹس کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔ اُنکے جانے سے احساس ہوا کہ آپکا ساتھ دینے والے کم ہو جائیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔ اِس سے میں نے وہ غم سمجھنے کی کوشش کی جو حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ کی وفات پر ہوا ، واقعی وہ سال غم کا سال کہلانے کا حقدار ہے۔

ہم انسان ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کو پرکھتے اور جج کرتے ہیں ، بلکل ایسے جیسے جس کو ہم جج کر رہے ہیں اُس کو ہم سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا ۔ اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ دوسروں کو سمجھنے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں ۔ یہ بھی ایک مخول ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مشکل کام یہ سمجھنا ہے کہ عورت کیا چاہتی ہے ۔ اور عورت کو سمجھنے پر وہ موٹی کتاب ، اور وہ فارمولوں اور حسابی تھیورمز سے بھرا ہوا بلیک بورڈ گو کہ ایک اچھا مخول ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل خود کو سمجھنا ہے ۔

تو بلاگنگ میرے لیے خود کو سمجھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ، میں اپنی لکھی ہوئی بکواسیات سے خود کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اپنی غلطیاں نکالنے کی کوشش کرتا ہوں، گو کہ میں دوسروں کی تنقیدی کمنٹ کو ہنسی مین اُڑا دوں لیکن شاید کسی وقت میں اُسی نقطے پر سوچنے کی کوشش کروں ۔ میرے یہ لیے یہ چیز ہمیشہ ایک ٹاپک آف انٹرسٹ رہا ہے کہ میں اگر کچھ کر رہا ہوں تو کیوں کر رہا ہوں ؟ اور اگر کوئی اور کر رہا ہے تو کیوں کر رہا ہے ؟ میرے اور اُسکے کرنے میں کیا فرق ہے اور یہ فرق کیوں ہے ۔

اگر آپ بلاگنگ دنیا کے ایک رُکن ہیں ، تو آپ کو بلاگنگ دنیا میں گونجنے والی آوازوں میں ایک آواز میعاری بلاگنگ کی بھی سنی ہو گی ، تو جنابو  میرا بلاگ کوئی میعاری بلاگ نہیں ہے ۔ نہ ہی میں نے اِس کو انسانیت کے فائدے کے لیے بنایا ہے ، میں انکل ٹام ہوں اور  میں نے چولیں مارنے کے لیے یہ بلاگ بنایا ہے ۔ بلاگنگ کی دنیا سے بہت سے یار بھی ملے ، جنکی فہرست اُردو سیارہ پر دیکھی جا سکتی ہے :ڈ ۔

اور جیسے میں نے یہ پوسٹ اچانک درمیاں سے شروع کر دی تھی ، ویسے ہی درمیاں سے ختم کرتا ہوں ۔ اللہ حافظ

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

تعارف پر اب تک 6 تبصرے

  • Gohar

    Friday، 9 September 2011 بوقت 2:06 am

    well done MASHALLAH but bro taaruf hamara aap kay saath ya aap ka hamaray saath? our yeh batayehay k Muay thai par Questions kab day rahay hain

  • علی

    Friday، 9 September 2011 بوقت 6:03 pm

    انکل جی ہم تو سنجیدگی سے اتنے بیزار ہیں کبھی خود غلطی سے سنجیدہ لکھ لیا تو اپنا لکھا نہیں پڑھا۔
    ماری رکھو چولیاں، اپنا بلاگ ہے ،اپنے الفاظ ہیں، اپنی فرسٹریشن ہے ،اور پڑھنے کے لیے ہم جیسے بے وقوف ہیں ناں۔

  • ذیشان یوسف

    Friday، 9 September 2011 بوقت 9:32 am

    بہت اچھی تحریر لکھی انکل ٹام جی میں اتنا ادب شناس تو نہیں اور نہ ہی تحریر شناس ہاں البتہ جو چیز اچھی لگی اسے ضرور سراہا……

  • اسد حبیب

    Friday، 9 September 2011 بوقت 8:28 am

    مگر اپنا مزاق کیسے اڑایا جاتا ہے؟؟؟

  • نسرین غوری

    Friday، 9 September 2011 بوقت 1:18 pm

    کیا میں یہ تعارف کہیں اور پوسٹ کرسکتی ہوں، خود فہمی پر یہ ایک قیمتی پوسٹ ہے

  • میں کون ہوں؟ | خاموش آواز

    Friday، 9 September 2011 بوقت 1:25 pm

    […] تعارف […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *