غم جذب کرنے کی خواہش

تمنا مختصر سے مختصر تر ہو گئی ہے میرے اپنوں کی دنیا میری دشمن ہو گئی ہے وہ سورج دھوپ برسا کر کہیں اب سو چکا ہے مجھے بارش میں جینے کی ہی عادت ہو گئی ہے میرا اب دل دکھانے سے نہیں کچھ فائدہ ہے مجھے اب گھاو کھانے کی ہی عادت ہو گئی...

مکمل تحریر پڑھیں

سمندر کا شور

آج کے دن میں نے تم سے اتنی ساری باتیں کی ہیں میری باتیں تمہارے واسطے فقط سیلاب کا شور ہوں جیسے تم سب یہ جو مل جل کر ایسے مجھ پر ہنستے ہو کل جب تم کو یاد آئے گا میں بھی باتیں کرتا تھا میں بھی کبھی تیز ہوا کے جھونکوں جیسا شور...

مکمل تحریر پڑھیں

میں خود ہی خود میں مر رہا ہوں

میری آواز میں کچھ گونج ہے کیا ؟ یا میں خود سے ہی باتیں کر رہا ہوں میں بھولا ہوا تھا خود کو کب سے تیری یادوں میں زندہ لگ رہا ہوں زمانے سے نہیں کچھ مجھ کو رغبت میں اپنے خول میں جیتا رہا ہوں محبت مجھ میں اب باقی نہیں ہے میں نفرت...

مکمل تحریر پڑھیں

میری تنہائیوں میں گونج اٹھتی ہے

کیوں، اب خدا تک پہنچنا ہے ؟ قدرت باکمال دیکھئے صاحب زمانے میں معزز مقام ہے جنکا وہ بد سے بد کردار دیکھئے صاحب دودھ پیتے ہی مجھکو ڈستے ہیں میرے دوست، میرے احباب دیکھئے صاحب زندگی کا مزا بہت سمجھا موت کے بعد دیکھئے صاحب میری تنہائیوں میں گونج اٹھتی ہے وہ خاموش، وہ...

مکمل تحریر پڑھیں

یہ مُلا ہے !!۔

شکیل جعفیری صاحب کی نظم کو دیکھ کر آج شرارت سوجھی ، پیش خدمت ہے ۔ جو ہم کہتے ہیں یہ بهی کیوں نہیں کہتا، یہ مُلا ہے یہ مُلا کو دہشت گرد نہیں کہتا، یہ مُلا ہے ہمارا ناچ یہ ہنس کر نہیں دیکهے یہ مُلا ہے ہمارے ساته یہ بهی کیوں نہیں گاتا...

مکمل تحریر پڑھیں

تیرے عشق میں کاہے غم

عالمِ مدہوشي ميں تجھ سے ملاقاتيں جو تھيں انکا تصور کر تو ليا تجھ سے جُدا اب کون ہو تجھ پر توکل کر تو ليا پھر سَر پہ ليا کيوں بوجھ ہو زندہ ہيں وقتِ عذاب ميں پھر مَر کے جِيا کچھ اور ہو دنيا کے رنگ و بو ميں تو سب عيش و نشاطِ...

مکمل تحریر پڑھیں

کہ پھر جام نوائی زندگی ہے

مجھے بیزارگی ہی میں خوشی ہے فقط آوارگی ہی زندگی ہے میں خود خواہش سے مرنا چاہتا ہوں کہ مرنے میں ہی میری زندگی ہے میں یوں قیدِ تنہائیِ زندگی میں عجب لاچارگی سے جی رہا ہوں کہ اب حاجت نوائے زندگی ہے کہ اب مرگ و جدائی زندگی ہے میں رند ہوں مجھے مل...

مکمل تحریر پڑھیں

آج پھر

تیری آواز میں تلخیِ کی کھنک آج پھر اجنبی سب لوگ لگیں آج پھر زندگی سے دشمنی ہے آج پھر انتظارِ موت کریں آج پھر چاند بھی جکڑا جکڑا آج پھر قیدِ تنہائی کا قفس آج پھر پاگل پگل سی دنیا آج پھر وہ غم آوارگی میں آج پھر روح جدا جسم سے ہے آج...

مکمل تحریر پڑھیں

بنام فارہہ

کچھ عرصے سے جون ایلیا صاحب کو پڑھنے کا چسکا لگا ہوا ہے، کل انکی نظم بنام فارہہ پڑھی ، اور پھر بار بار پڑھی پھر اچانک پڑھتے پڑھتے دماغ میں شیطانی آئی اور بنام فارہہ اپنی ہی ایک نظم بنا ڈالی لیکن اسکو پڑھنے سے پہلے جون ایلیا صاحب کی بنام فارہہ پڑھیں ساری...

مکمل تحریر پڑھیں

جوگ

مردہ لوگ، مرگ کا شوق پابند زندگی ،آرزوئے موت   اُداسی مرگ ،تنہائی کا روگ اندھیری رات، روشنی کا خوف   گرجتے بادل ، طوفان موت آوارہ رات , زندگی خاموش   ہوش بیہوش ، کیفیت سوگ تپتے صحرا، لگ گیا جوگ    عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

مکمل تحریر پڑھیں