ویلنٹائنز ڈے اور ہمیشہ کے تنہا

مجھے پتا تھا آج کا دن منہوس ہی ہونا تھا ، بس سٹاپ پر پہنچ کر جب مجھے اپنے ’’پارشلی‘‘ اندھے ہونے کا احساس ہوا تو میں نے آنکھوں پر ہاتھ مار کر عینک کی غیر موجودگی کا ثبوت حاصل کرتے ہوئے سوچا۔ چلو خیر ہے ، کالج کے لاکر میں ایک سیفٹی گلاسسز کے...

مکمل تحریر پڑھیں

اوور کانفیڈینٹ

ہمارے ایک استاد صیب ہیں ، پہلے سمیسٹر میں پبلیکیشنز کا کورس پڑھاتے تھے، پبلیکیشن جہاز کی ٹیکنیکل ڈرائنگز، اسکے مینول سے معلومات تلاشنا وغیرہ وغیرہ جیسی چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے ،  اس کورس میں میرا ’’اے  پلس ‘‘ آگیا تھا  اسکی وجہ یہ ہے کہ استاد صیب غصے کے بڑے ہیں بلکہ پورے...

مکمل تحریر پڑھیں

تارے

دکان سے باہر نکلتے ہی میری نگاہ آسمان کی طرف گئی ، کافی تارے موجود تھے ، پتا نہیں یہ ٹورانٹو میں کیوں نظر نہیں آتے ، میں نے سوچا ، خالی چاند بغیر تاروں کے کتنا عجیب سا لگتا ہے ، گنجا گنجا سا لگتا ہے ۔ لاہور میں پلیوشن ٹورانٹو سے کہیں زیادہ...

مکمل تحریر پڑھیں

دل نی لگتا

میں سوچ رہا ہوں پاکستان چلا جاوں اب میرا دل نہیں لگتا یہاں ، میں نے چیس کے ڈبے میں چیس کریدتے ہوئے کہا۔ وہ جو پیزے پر چیس ڈال رہا تھا اچانک اپنے ہاتھ روک کر میری طرف دیکھا پھر زور سے قہقہہ لگایا اور گویا ہوا ، یعنی تو نے دل اب اپاکستان...

مکمل تحریر پڑھیں

میں مرنا چاہتا ہوں

بہت تھک چکا ہوں، میں مرنا چاہتا ہوں دروازہِ زندگی یوں بند کرنا چاہتا ہوں آغازِ زیست سے ہی تنگ ہوا دنیا سے سوہانِ نیست کا آغاز کرنا چاہتا ہوں بہت گونجا ہے یہ شور میرے کانوں میں اب اس شور کو خاموش کرنا چاہتا ہوں حرامِ خودکشی ہی خوں سے روکتی ہے مجھے وگرنہ...

مکمل تحریر پڑھیں

ظالم کے ظلم پر ہماری حوصلہ افزائی

میرے ایک دوست ہیں ، مولانا صاحب کا تعلق کراچی سے ہے ، وہ کہتے ہیں کہ آجکل یہاں صورتِ حال یہ ہے کہ اگر آپ تھوڑے سے دیندار ہیں اور شکل و صورت سے بھی لگتے ہیں تو آپ بھی ٹارگٹ ہیں ، اور یہاں کے لوگوں کا رویہ اب روز روز کی ٹارگٹ...

مکمل تحریر پڑھیں

اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے

میرے ایک ہائی سکول کے دوست نے اپنے فیس بک پر یہ سوال پوچھ رکھا تھا کہ اسلام تو تلوار کے زور پر نہیں پھیلا لیکن کیا ڈیمو کریسی پستول کے زور پر پھیلی ہے ؟۔ وہاں جہاں مختلف لوگوں نے اس بارے اپنی رائے دی ایک صاحب (غیر مسلم ) نے بھی سوال کیا...

مکمل تحریر پڑھیں

کہ اب خاموش ہو جاوں

احساسِ زندگی ابتر احساسِ مرگ میں کب تک جھلستی آگ میں اب تو جگر ٹھنڈا رہے کب تک میں رازِ زندگی پاوں سسکتی آہ میں کب تک بہت پرخار رستہ ہے مگر میں خار ہوں کب تک میں مشکل روندنا چاہوں ملیں گی منزلیں کب تک کہ تنہا رات کو نکلوں تمہاری یاد میں کب...

مکمل تحریر پڑھیں

ہوس

غریب خاندان میں پیدا ہونا میرا قصور نہیں تھا، اسی لیے میں نے اپنا سارا بچپن خدا سے اس بات پر لڑتے ہوئے گزارا۔ جوانی کی دہلیز پر قدرم رکھا تو کالج کے دوستے کے ساتھ سگریٹ پیتے گزاری، امیر دوستوں سے جیلسی پیدا ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ پیسا حاصل کرنے کے لیے یا...

مکمل تحریر پڑھیں

مس اس نے تو تیاری بھی نہیں کی تھی

  پرائمری سکول میں سالانہ فنکشن ہونا تھا بچوں کو انعام شنام ملنے تھے، استاد صیب نے کہہ دیا کہ تم تقریر کرو گے۔ میں نے بھی امی کو کہہ دیا کہ ایک اچھی سی تقریر لکھ کر دیں میں نے فنکشن میں کرنی ہے ، امی نے بھی زور دار قسم کی تقریر لکھ...

مکمل تحریر پڑھیں